بارہمولہ میںکسٹوڈین اراضی میں مبینہ گھوٹالے کا انکشاف

غیر قانونی اراضی فروخت اور لینڈ مافیا کی سرگرمیوں پر قانونی کارروائی کا امکان

سرینگر/یو این ایس// بارہمولہ میں کسٹوڈین اراضی سے متعلق ایک بڑے گھوٹالے کا معاملہ زیرِ تحقیق ہے۔ ذرائع کے مطابق، بعض زمین مالکان مبینہ طور پر کسٹوڈین جنرل سے این او سی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ کئی دفاتر میں رشوت لے کر قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے این او سی جاری کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق دشمن جائیداد ایکٹ 1968 میں 2017 کی ترمیم کے بعد کسٹوڈین آف اینمی پراپرٹی فار انڈیا کو کسی بھی ایسی دشمن جائیداد کے لیے این او سی جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے جو حکومت کے پاس ویسٹ ہو چکی ہو۔ قانونی ماہرین کے مطابق، دشمن جائیداد کو کسی دوسرے نجی فرد یا اس کے وارثین کو منتقل کرنا ممنوع ہے، اور ایسی تمام منتقلیاں باطل تصور کی جاتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق بارہمولہ ٹاؤن کے اشکورا اور دیگر علاقوں میں کسٹوڈین زمینیں نیلامی کے ذریعے فروخت ہوئیں، تاہم مبینہ طور پر لینڈ مافیا نے نیلام شدہ اراضی کو غیر قانونی طور پر چھوٹے پلاٹس میں تقسیم کر کے مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نیلامی کے بعد زمین کے استعمال اور دوبارہ فروخت پر سخت قانونی پابندیاں عائد ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیا میں معاملہ اجاگر ہونے کے بعد متعلقہ محکمے حرکت میں آ گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس پورے نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ این او سی جاری کرنے والے افسران اور لینڈ مافیا کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔