بادل پھٹنے سے متاثرہ چسوتی میں بچاؤ کام کی سنگرانی کے لیے 8 سینئر آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران تعینات

بادل پھٹنے سے متاثرہ چسوتی میں بچاؤ کام کی سنگرانی کے لیے 8 سینئر آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران تعینات

ایک سی آئی ایس ایف اہلکار سمیت 81افراد ابھی بھی لاپتہ ، موسمی صورتحال کی وجہ سے بچائو کارروائیوں میں رُکاوٹ

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے پیر کو 8 سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو ضلع کشتواڑ کے بادل پھٹنے سے متاثرہ چسوتی گاؤں میں راحت اور بچاؤ کاموں کی نگرانی کے لیے تعینات کیا جس میں 62 افراد ہلاک ہوئے۔14 اگست کو، کشتواڑ کے چسوتی میں بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے تباہی مچ گئی جو کہ مژھل ماتا مندر کی طرف جانے والا آخری موٹر ایبل گاؤں تھا جس میں سینکڑوں افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئی اور درجنہوں ہلاک اور کم از کم 116 افراد زخمی ہوئے جبکہ ابھی بھی متعدد افراد کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے کشتواڑ ضلع کے سانحہ زدہ گاؤں چشوتی میں جاری راحت و ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کے لیے آٹھ سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو تعینات کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے یہاں کلاؤڈ برسٹ اور اس کے نتیجے میں آنے والے فلیش فلڈز میں کم از کم 62 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جب کہ 116 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور 82 افراد — جن میں 81 یاتری اور ایک سی آئی ایس ایف اہلکار شامل ہیں تاحال لاپتہ ہیں۔انتظامیہ کی طرف سے جاری حکم نامے کے مطابق افسران کو آٹھ دنوں کے لیے ڈیوٹی سونپی گئی ہے، جہاں ایک ایک آئی اے ایس اور ایک آئی پی ایس افسر باری باری دو دو دن نگرانی کریں گے۔پہلے مرحلے میں پرنسپل سیکریٹری ہوم چندرکر بھارتی اور آئی جی پی (آپریشنز اینڈ سروسز) اْتم چند 19 اور 20 اگست کو ریسکیو کام کی قیادت کریں گے۔ اس کے بعد پرنسپل سیکریٹری انیل کمار سنگھ اور آئی جی پی سْجیت کمار 21 اور 22 اگست کو ذمہ داری سنبھالیں گے۔23 اور 24 اگست کو فنانشل کمشنر و ایڈیشنل چیف سیکریٹری شالین کابرا اور آئی جی پی سلیمان چوہدری موقع پر موجود رہیں گے، جب کہ آخری مرحلے میں 25 اور 26 اگست کو سیکریٹری شاہد اقبال چوہدری اور آئی جی پی وِویک گپتا نگرانی کریں گے۔حکام نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں پیر کو پانچویں روز بھی بارش کے باوجود ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ ریسکیو ٹیموں نے برساتی کوٹ پہن کر مختلف مقامات پر دبے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ایک لنگر (کمیونٹی کچن) کے نزدیک سب سے زیادہ تباہی مچنے کے بعد وہاں خصوصی طور پر مشینری اور پولیس کے ڈاگ اسکواڈ کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ ملبے تلے کسی کے زندہ ہونے کا سراغ مل سکے۔کلاؤڈ برسٹ کے بعد سے مژھل ماتا یاترا بھی مسلسل پانچویں دن معطل رہی۔ یہ سالانہ یاترا 25 جولائی کو شروع ہوئی تھی اور 5 ستمبر کو اختتام پذیر ہونا تھی۔یہ یاترا 9,500 فٹ بلندی پر قائم درگاہ تک 8.5 کلومیٹر طویل پیدل سفر پر مشتمل ہے، جس کا آغاز چشوتی سے ہوتا ہے، جو کشتواڑ قصبے سے تقریباً 90 کلومیٹر دور واقع ہے۔