بادل پھٹنے اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کیلئے متعدد اضلاع پُر خطر قرار

جموں و کشمیر میں ہائپر لوکل موسمی وارننگ نظام متعارف کرانے کی تیاری

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیرمیں بادل پھٹنے اور سیلابی ریلوں جیسے شدید موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے جدید ہائپر لوکل موسمی پیشگوئی اور بروقت انتباہی نظام متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت متعدد اضلاع کو خطرے کی سطح کے مطابق درجہ بندی کر کے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔یو این ایس کے مطابق حکومت نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہمالیائی ریاستوں کے7 اضلاع کو خصوصی مداخلت کے لیے منتخب کیا ہے، جن میں جموں و کشمیر کے رام بن اور کشتواڑ شامل ہیں۔سرکارنے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران بادل پھٹنے، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق اعداد و شمار محکمہ موسمیات کے مرکز سری نگر میں دستیاب ہیں، جن کی بنیاد پر اضلاع کی سطح پر خطرے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع، بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور زراعت، باغبانی و مویشی پر اثرات کی بنیاد پر اضلاع کو زیادہ، درمیانہ اور کم خطرے کی زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔کشمیر ڈویژن میں اننت ناگ، کولگام اور گاندربل کو زیادہ خطرے والا قرار دیا گیا ہے، جبکہ بڈگام، شوپیاں اور پلوامہ درمیانے درجے میں ہیں۔ سری نگر، بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کو کم خطرے والے اضلاع میں رکھا گیا ہے۔جموں ڈویژن میں کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، ریاسی اور ادھمپور کو زیادہ خطرے والے اضلاع میں رکھا گیا ہے، جبکہ راجوری، پونچھ اور کٹھوعہ درمیانے درجے میں شامل ہیں۔ جموں اور سانبہ کو کم خطرے والے اضلاع میں شمار کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ محکمہ موسمیات جموں و کشمیر میں مزید 4 ڈوپلر ویدر ریڈار اور 34 خودکار موسمی اسٹیشن اور اسنو گیجز نصب کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس وقت سری نگر، جموں اور بانہال میں 3 ایکس بینڈ ریڈار پہلے سے موجود ہیں۔ نئے ریڈار ڈوڈہ، راجوری، اننت ناگ اور بارہمولہ میں نصب کیے جائیں گے تاکہ بروقت وارننگ سسٹم کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ 26 اضافی خودکار موسمی اسٹیشن اور آٹھ اسنو گیجز دور دراز اور پہاڑی علاقوں جیسے کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، راجوری، ادھمپور، کپواڑہ، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور شوپیاں میں نصب کیے جائیں گے، جس سے ہائیڈرو میٹرولوجیکل آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ محکمہ تعمیرات عامہ نے بھی سیلابی ریلوں اور بادل پھٹنے سے سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں ریٹیننگ والز، بریسٹ والز، گیبیئن ڈھانچے اور بائیو انجینئرنگ تکنیکوں کے ذریعے ڈھلوانوں کو مستحکم کرنا شامل ہے۔حکومت کے مطابق تازہ ہائیڈرولوجیکل اور جیو ٹیکنیکل جائزوں کو تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس میں شامل کیا جا رہا ہے اور فنڈز کی دستیابی کے مطابق حساس مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ ستمبر 2025 میں مرکزی وزارت داخلہ نے سیلاب سے متعلق نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین وزارتی ٹیم جموں و کشمیر بھیجی تھی۔ 6 نومبر 2025 کو نقصانات کی تفصیلی یادداشت وزارت کو پیش کی گئی، جس کے بعد نومبر 2025 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی قیادت میں ایک ٹیم نے پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسسمنٹ مکمل کر کے اپنی رپورٹ مرکز کو پیش کی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کثیر النوع خطرات کے جائزے، زونیشن فریم ورک اور ایچ وی آر اے اٹلس کی تیاری کے لیے ایک ماہر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ خطرات کے تجزیے کو منصوبہ بندی اور حکمرانی کے نظام میں مؤثر طریقے سے شامل کیا جا سکے۔