ہلاکتوں کے خلاف پہلگام میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں کا احتجاج
سرینگر//پہلگام ہلاکتوں کے خلاف جمعہ کو نماز کے پہلگام جامع مسجد کے باہر سینکڑوں لوگوںنے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اس ہلاکت خیز واقعے کی سخت مذمت کی جبکہ مظاہرین سیاحوں سے اپیل کررہے تھے کہ وہ کشمیر خوشی سے آئیں کشمیری سیاحوں کی حفاظت اپنی جان سے بھی زیادہ کرتے ہیں ۔ ادھر بڈگام میں نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں لوگوں نے بائسرن ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جامع مسجد پہلگام میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے مسجد کے باہر آتے ہی بائسرن میں ہوئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے سیاحوں کیلئے اپنی جان دینے کے نعرے بلند کرتے ہوئے اپیل کررہے تھے کہ وہ کشمیر ضرور آئیں یہاں پر کشمیری مہمان نواز ہیں اور مہمانوں کی حفاظت وہ اپنی جان سے بھی زیادہ کرتے ہیں ۔ مظاہرین میں سے کئی لوگوں نے بتایا کہ کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے جہاں پر سیاحت سے لاکھوں لوگ جڑے ہوئے ہیں اور اس طرح کی حرکات یہاں کے ماحول کو نقصان پہنچارہی ہیں۔ درین اثناء پہلگام اننت ناگ میں ہونے والے سفاکانہ دہشت گردانہ حملے کے خلاف انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام تمام جمعہ مراکز پر احتجاج ہوا بڈگام میں بعد از نماز جمعہ مرکزی امام باڑہ بڈگام سے تنظیم کے صدر حجتہ الاسلام والمسلمین خمینی کشمیر آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا جلوس میں شامل ہزاروں مظاہرین نے دہشت گردی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مین چوک بڈگام تک مارچ کیا جہاں آغا صاحب نے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایسے بزدلانہ اور دہشت گردانہ اقدامات انسانیت اور اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہیںاسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی انسان کا ناحق قتل تمام انسانوں کو قتل کرنے کے مترادف ہے کشمیری مسلمان طویل عرصے سے دنیا بھر میں اپنی مثالی مہمان نوازی کے لیے مشہور رہے ہیں مذہب و ملت کی تمیز کے بغیر، ہر مشکل میں پھنسے سیاح کو پناہ دینا، مدد فراہم کرنا، کشمیری روایت کا حصہ ہے۔ پہلگام میں پیش آنے والا خونی واقعہ نہ ہمارے اخلاق کی ترجمانی کرتا ہے اور نہ ہی ہماری سرزمین کے کردار کی۔یہ واقعہ اْن عناصر کی کارستانی ہے جو کشمیریوں کی ساکھ، تہذیب، اور معیشت کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ آغا صاحب نے کہا کہ پہلگام حملے پر مجموعی طور کشمیر دم بخود ہوچکا ہے، کیونکہ اس کا درد ہم سے زیادہ اور کوئی محسوس نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور ایسی حکمت عملی ترتیب دی جائے تاکہ آئندہ یہ واقعات رونما نہ ہونے پائیں۔ باہر مقیم کشمیریوں خاص کر طلبا کی طرف سے پہلگام کے گھناونے واقعے کے بعد جو خوف اور پریشانی کا اظہار کیا جا رہا ہیان پر حملے کئے جا رہے ہیں اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آغا صاحب نے مرکزی حکومت سے مداخلت کرکے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔










