weather update

بائسران وادی میں مہلک حملے کے بعد سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحت معمول پر لوٹ رہی ہے

سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد پہلگام میں لطف اندوز ، سیاحتی شعبہ سے وابستہ افراد کیلئے راحتی پیغام

سرینگر// بائسران وادی میں مہلک حملے کے بعد مشہور سیاحتی مرکز پہلگام میں سیاحت معمول پر لوٹ رہی ہے اور سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد پہلگام میں لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق مہلک دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے تقریباً دو ماہ بعد جنوبی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحت دوبارہ معمول پر آ رہی ہے ۔عید کی چھٹیوں کے بعد مقامی لوگوں اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے چرواہوں کی وادی کا دورہ کرنا شروع کر دیا ہے۔اسی دوران گزشتہ دنوں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنے کے اعلان کے ساتھ ہی اتوار کے روز پہلگام میں سیاحوں کا اچھا خاصہ رش دیکھنے کو ملا ۔ پہلگام میں سیاحوں کی دوبارہ آمد کے ساتھ ہی سیاحتی شعبہ سے وابستہ لوگوں کی خوشی کا باعث ہے۔اتوار کے روز پہلگام میں سیاحوں کا اچھا خاصہ رش رہا اور سیاح قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے نظر آئیں ۔ اس دوران سیاحوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سیاحتی مقام پر سیر کرنے میں کافی اچھا لگا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سیاح پہلگام کا دورہ کریں ۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نبیل بٹ نے کہا’’ہم ہر سال پہلگام کا دورہ کرتے رہے ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہاں سیاحوں کا رش رہا ہے یا نہیں، اس لیے اس سال بھی کچھ مختلف نہیں رہا‘‘۔22 اپریل کو یہاں سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گھاس کا میدان بایسران میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیر کے بیشتر حصوں میں سیاحت کی تجارت ٹھپ ہوگئی تھی، جس میں 26 افرادجاں بحق ہو گئے تھے ۔ اس واقعے کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فضائی جھڑپیں ہوئیں جبکہ لائن آف کنٹرول پر سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری سے لوگوں کی جانیں گئیں۔زیادہ تر مقامی سیاح خوش تھے کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے پہلگام میں پارکوں کو کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ لوگ اس جگہ کی طرف راغب ہوں گے۔ایک پونی والا محمد رمضان نے کہا کہ ان کی برادری امید کر رہی ہے کہ پہلگام آنے والے سیاحوں میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا۔