مولانا محمد نعمان رضا علیمی بنارسی
دو دن قبل، ۱۷ دسمبر ۲۰۲۴ کو بھارتی پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا، جب مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں آئین (۱۲۹ ویں ترمیم) بل ۲۰۲۴ پیش کیا۔ اس بل کا مقصد لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، اور ممکنہ طور پر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کو ایک ہی وقت میں منعقد کرنے کی سفارش کرنا ہے۔ یہ قدم جمہوری عمل کو مؤثر اور کفایتی بنانے کے وعدے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
بل کا تعارف اور حکومتی موقف: وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جمہوری عمل کو شفاف، مؤثر، اور کم خرچ بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الگ الگ انتخابات کے دوران وقت اور وسائل کا جو ضیاع ہوتا ہے، اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مشترکہ انتخابات سے ترقیاتی منصوبے بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکیں گے۔ بل کو تفصیلی غور و خوض کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے پاس بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
اپوزیشن کا سخت ردعمل: اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت میں سخت مؤقف اختیار کیا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس (TMC)، اور سماج وادی پارٹی (SP) سمیت دیگر جماعتوں نے اس کو آئین کے وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ کانگریس نے اسے آئین کے اصولوں کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ ریاستوں کے اختیارات کو کمزور کرے گا۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اسے “جمہوریت کے قتل کی کوشش” کہا۔ ترنمول کانگریس نے اسے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دیا۔
ممکنہ فوائد: بل کے اہم فوائد درج ذیل ہیں: (۱) انتخابی اخراجات میں کمی: بیک وقت انتخابات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ میں کمی ہوگی۔ الگ الگ انتخابات پر خرچ ہونے والے اربوں روپے دیگر ضروری منصوبوں پر خرچ کیے جا سکیں گے۔ (۲) ترقیاتی عمل میں تسلسل: انتخابات کے دوران ضابطۂ اخلاق (Election Code of Conduct) نافذ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے روک دیے جاتے ہیں۔ مشترکہ انتخابات سے یہ رکاوٹ ختم ہوگی۔ (۳) ووٹنگ میں شفافیت: ایک ہی ووٹر لسٹ اور مشترکہ عمل سے انتخابی دھاندلی کے امکانات کم ہوں گے۔ (۴) انتظامی سہولت: الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے بیک وقت انتخابات کی منصوبہ بندی زیادہ مؤثر طریقے سے کر سکیں گے۔
ممکنہ نقصانات اور چیلنجز: (۱) وفاقی ڈھانچے کو خطرہ:آئین کا وفاقی ڈھانچہ ریاستوں کو خودمختاری دیتا ہے۔ مشترکہ انتخابات کے نتیجے میں ریاستی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ (۲) عوامی مسائل پر توجہ کی کمی:الگ الگ انتخابات عوام کو حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مشترکہ انتخابات میں یہ موقع محدود ہو جائے گا۔ (۳) وسائل کی قلت: بیک وقت انتخابات کے لیے ای وی ایم مشینوں کی فراہمی، عملے کی تربیت، اور انتظامات جیسے مسائل درپیش ہوں گے۔ (۴) ثقافتی تنوع: بھارت کی مختلف ریاستوں کی اپنی ثقافت، زبان، اور سیاسی ترجیحات ہیں۔ مشترکہ انتخابات میں ان اختلافات کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
تاریخی تناظر: ۱۹۵۱ سے ۱۹۶۷ تک بھارت میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ منعقد کیے جاتے تھے۔ لیکن ۱۹۶۷ کے بعد ریاستوں میں اسمبلیوں کی تحلیل کے باعث یہ عمل ختم ہو گیا۔ حالیہ طور پر، سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے بیک وقت انتخابات کی سفارش کی، جس پر حکومت نے فوری طور پر بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔
موجودہ پیش رفت: ۱۲ دسمبر ۲۰۲۴ کو مرکزی کابینہ نے اس بل کی منظوری دی۔ پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کے بعد، حکومت نے جے پی سی کے قیام کی سفارش کی، جو بل پر تفصیلی مشاورت کرے گی۔
سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی: بل پیش کیے جانے سے قبل ہی بی جے پی نے اپنے ممبران کے لیے تین سطری وہپ جاری کیا، جس میں تمام ممبران کو ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی گئی۔ دوسری جانب، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بل کے خلاف ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور اپنی حکمت عملی ترتیب دی۔
“ایک قوم، ایک انتخاب” کا تصور نہ صرف جمہوری عمل کو منظم بنانے کی کوشش ہے بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ تاہم، اس پر عمل درآمد سے پہلے تمام آئینی، انتظامی، اور سیاسی چیلنجز پر غور ضروری ہے۔ اگر یہ بل عوامی فلاح کے لیے مفید ثابت ہو، تو اس کی منظوری دی جانی چاہیے۔ لیکن اگر اس سے آئینی ڈھانچے یا جمہوری اقدار پر منفی اثر پڑے، تو اس پر نظرثانی ناگزیر ہوگی۔










