سرینگر//یوپی میں ایک سے زیادہ بچے رکھنے پر پابندی کا قانون لایا جارہا ہے تاکہ بڑھتی آبادی پر قابو پایا جاسکے اس ضمن میںاترپردیش میں نئے آبادی کنٹرول قانون کو لے کر ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت دو سے زیادہ بچوں کے والد کو کسی بھی سرکاری سبسڈی یا کسی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا۔ اترپردیش کی یوگی حکومت نئی آبادی پالیسی لانے کی تیاری میں ہے۔ اترپردیش میں نئے آبادی کنٹرول قانون کو لے کر ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت دو سے زیادہ بچوں کے والد کو کسی بھی سرکاری سبسڈی یا کسی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا۔ اس کے علاوہ ایسے شخص کسی سرکاری نوکری کے لئے بھی درخواست نہیں دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی نئے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو مقامی بلدیاتی انتخابات میں بھی لڑنے پر پابندی ہوگی۔واضح رہے کہ اترپردیش میں ریاستی قانون کمیشن ’یوپی آبادی (کنٹرول، استحکام و بہبود) بل،2021′ کے مسودے پر 19 جولائی تک عام لوگوں سے رائے طلب کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسا قانون ہے، جو اترپردیش میں آئندہ انتخابات میں دور رس اثر ڈال سکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ قانون ریاست میں مسلم آبادی پر نشانہ سادھنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کو قانون کے مسودے پر ایک پرزنٹیشن دیکھا۔ آج اس مسئلے پر وہ بول سکتے ہیں۔موجودہ ڈرافت میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی قانون کے نافذ ہونے کے بعد دو بچے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، اسے حکومت کے ذریعہ چلائی جارہی سبھی فلاحی اسکیموں کے فائدے سے محروم کردیا جائے گا، وہ مقامی بلدیہ کے لئے الیکشن نہیں لڑسکتا، ریاستی حکومت کے تحت سرکاری نوکریوں کے لئے درخواست دینے کا اہل نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کو سرکاری نوکری میں پرموشن بھی نہیں ملے گا۔ ڈرافٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا راشن کارڈ چار اراکین تک محدود رہے گا اور وہ کسی بھی طرح کی سرکاری سبسڈی بھی نہیں لے سکے گا۔










