جموں//ایوان نے جموں و کشمیرپرائیویٹ یونیورسٹیز بل 2026 (ایل اے بل نمبر 08 آف 2026) منظورکیا جو جموں و کشمیر میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے قیام اور شمولیت سے متعلق ہے۔وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو کی طرف سے پیش کردہ بِل میں لکھا گیا ،’’یہ ایک ایسا بل ہے جس کے ذریعے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میںپرائیویٹ یونیورسٹیوں کے قیام اور ان کی شمولیت کا انتظام کیا جائے گا اور ان کے کام کاج، انتظام و انصرام اور تعلیمی معیار کو منظم کیا جائے گا تاکہ معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے اور طلبأ کے مفادات کا تحفظ ہو۔‘‘اُنہوں نے بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس بل کی تیاری سے قبل جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی شعبے سے متعلق تمام مسائل اور خدشات کو مدنظر رکھا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ بل پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے قیام کی راہ ہموار کرے گا اور یہاں کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو فروغ دے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس سے جموں و کشمیر کے متعدد طلبأکو فائدہ پہنچے گا جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے جموںوکشمیر سے باہر جاتے تھے۔اراکین اسمبلی میر سیف اللہ، نظام الدین بٹ، پیرزادہ فاروق احمد شاہ اور تنویر صادق نے اس بل پر ترامیم پیش کیں۔ تاہم، وزیر تعلیم کی یقین دہانی کے بعد اُنہوں نے اَپنی ترامیم واپس لے لیں۔رُکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیہ نے بھی ایک ترمیم پیش کی جسے صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا۔ بعد میں سپیکر نے بل کو صوتی ووٹ کے لئے پیش کیا جس کے بعد اسے منظور کیاگیا۔










