این سی ارکان پارلیمان کی شرکت یقینی

90 نشستوں کی مساوی تقسیم بھاجپاکاموقف :جگل کشورشرما

سری نگر//اس خدشے سے کہ وادی میں مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کے خیالات کو سنا نہیں جائے گا، فاروق عبداللہ کی زیرقیادت نیشنل کانفرنس کے ممبران پارلیمنٹ کے20 دسمبر کو طے شدہ حد بندی کمیشن کی اگلی میٹنگ میں شرکت کرنے کاقوی امکان ہے۔اس دوران معلوم ہواکہ 20دسمبر کونئی دہلی میں ہونے والی اہم میٹنگ میں حدبندی کمیشن ،جموںوکشمیرمیں اسمبلی حلقوںکی سرنو حدبندی ،حلقوں کی تعدادمیں اضافے اورکچھ حلقوںکودرج فہرست ذاتوں وقبائل کیلئے مخصوص رکھے جانے سے متعلق اپنامسودہ رپورٹ پیش کرے گا۔جے کے این ایس کے مطابق حد بندی کمیشن برائے جموں و کشمیر کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کر رہی ہیں،اور چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا اور جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر کے کے شرماکمیشن ھٰذاکے ممبران ہیںجبکہ جموں وکشمیر کے5ممبران پارلیمنٹ (لوک سبھا)کمیشن کے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران ہیں،جن میںنیشنل کانفرنس کے تین ارکان پارلیمنٹ فاروق عبداللہ، حسنین مسعودی اور اکبر لون کے علاوہ بھاجپاکے دوممبران پارلیمنٹ ڈاکٹر جتندر سنگھ (مرکزی وزیر) اورجگل کشورشرما شامل ہیں۔رواں فروری میں ہونے والی حدبندی کمیشن کی میٹنگ سے نیشنل کانفرنس کے تین ارکان پارلیمنٹ دُور رہے تھے۔ پارٹی نے کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں اس کے ساتھ منسلک ہونے کیلئے اپنے اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کا اظہار کیا گیا تھا اور یہ دلیل دی گئی تھی کہ جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ، 2019، سپریم کورٹ آف انڈیا میں’عدالتی جانچ‘ کے تحت ہے۔20 دسمبر کی میٹنگ کے لئیدوبارہ دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد، نیشنل کانفرنس سے وابستہ رُکن پارلیمان حسنین مسعودی نے کہاکہ انہوںنے کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں اس کے ایجنڈے کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے اس اقدام کواسکے سابق موقف میں تبدیلی سے جوڑاجارہاہے ۔ حسنین مسعودی نے کہاکہ ہم تمام NC کے ممبران پارلیمنٹ کو کمیشن کی طرف سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا تھا۔ ہم نے اُنہیں ایک پیغام بھیجا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ہمیں میٹنگ کا ایجنڈا اور متعلقہ دستاویزات بھیجیں۔ نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمنٹ حدبندی کمیشن کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں،تاہم اسبات کاغالب امکان ہے کہ این سی کے تینوں ارکان پارلیمان کمیشن کی اگلی میٹنگ میں شرکت کریں گے ،کیونکہ پارٹی کے اندرسے دبائو بڑھ رہاہے کہ اگر این سی کے ارکان پھرمیٹنگ سے دوررہے تومیٹنگ میں صرف بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ معاملات یکطرفہ طورپر طے کئے جائیں گے۔نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر نے ایک انگریز ی روزنامہ کوبتایاکہ ہماری پارٹی کے ارکان پارلیمان کی حدبندی کمیشن کی اگلی میٹنگ میں شرکت یقینی ہے تاہم مذکورہ لیڈر نے کہاکہ پارٹی صدر فاروق عبداللہ حتمی فیصلہ کریں گے۔اُدھر بھاجپاسے وابستہ ممبرپارلیمنٹ جگل کشور شرما نے انگریزی روزنامہ کوبتایاکہ 20 دسمبر کو ہونے والی میٹنگ میں ایک مسودہ رپورٹ شیئر کئے جانے کی امید ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم آبادی کے ساتھ ساتھ جغرافیائی علاقے کو بھی مدنظر رکھنے اور 90 نشستوں کو مساوی طور پر جموں ڈویڑن اور وادی کشمیر کے درمیانتقسیم کرنے کیلئے کمیشن کے سامنے اپنی آرا ء اورموقف پیش کریں گے۔