اینٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کے نتیجے میں عام لوگوں ک شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔وادی کشمیر میں اینٹوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچائی گئی ہے جبکہ سرکار کی جانب سے اینٹوں کیلئے مقرر کردہ نرخ کو بالائے طاق رکھا گیا ہےجسسے عام لوگ پریشان ہوگئے ہیں ۔ اس واقت وادی میں 28ہزار سے 31ہزار تک 3000ہزار اینٹوں سے بھری گاڑی فروخت کی جارہی ہے جبکہ سرکارنے اس کیلئے 21000روپے مقرر کی تھی ۔ اس ضمن میں ضلع کمشنر بڈگام نے گرزشتہ برس باضابطہ حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے تحت 21ہزار روپے فی گاڑی تین ہزار اینٹ تمام ٹیکسوں سمیت مقرر کی اس میں صرف ٹرانسپورٹ کا چارج الگ رکھا گیا تھا ۔ رپورٹ کے مطابق ضلع بڈگام میں قائم اینٹ بٹھوں سے روزانہ 30ملین اینٹیں فروخت کی جاتی ہے اور اس طرح سے اینٹ بٹھ مالکان روزانہ 10کروڑ روپے اضافی قیمت وصول کرتے ہیں اور ان دس کروڑ روپے پر کوئی ٹیکس بھی ادانہیں کیا جارہا ہے کیوں کہ اینٹ بٹھ مالکان اس کی رسید پُرانی قیمت پر ہی کاٹ دیتے ہیں ۔ گزشتہ برس اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے کئی اینٹ بٹھ مالکان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھیں تاہم آج جب سیزن چل رہا ہے پھر سے اینٹ بٹھ مالکان نے اپنی من مانیاں شروع کردی ہے ۔ اگرچہ گذشتہ سال ، قیمتوں پر کچھ جانچ پڑتال کی گئی تھی کیونکہ انتظامیہ نے گاہکوں سے زیادہ وصول کرنے پر اینٹوں کے بھٹہ مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔ اس سال بھٹوں پر بلک میں اینٹوں کی دستیابی کے باوجود نرخ کم نہیں ہو رہے ہیں کیونکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بن چکی ہے۔ سری نگر کے رہائشی جاوید احمد نے بتایا کہ وہ گذشتہ کچھ مہینوں سے اپنے مکان کی تعمیر میں تاخیر کر رہا ہے۔ امید ہے کہ اینٹوں کی قیمتیں کم ہوں گی۔ انہوں نے کہا ،اب اینٹوں کی نئی کھیپ ختم ہوگئی ہے اور وہ ہر بھٹے پر دستیاب ہیں لیکن قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے انکشاف کیا ہے کہ رسید صرف 21000روپے کی دی گئی ۔ انہوںنے کہا کہ جب میں نے اینٹ بٹھ مالک سے اس بار ے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ اینٹ نہیں ملے گی ۔










