نئی دہلی: ملک بھر میں ایندھن قیمتوں میں ہو رہے اضافہ کے خلاف حزب اختلاف کی جانب سے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ اس معاملہ پر بدھ کے روز کانگریس، ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا سے واک آؤٹ کر دیا۔ جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں راجیہ سبھا میں بھی مہنگائی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق، لوک سبھا میں وقفہ سوالات ختم ہوتے ہی ، کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور دیگر اراکین مہنگائی کو کم کرنے کے سلسلے میں ایوان کے وسط میں آ گئے۔ انہوں نے مہنگائی کم کرنے سے متعلق حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور کچھ دیر بعد ایوان سے واک آؤٹ کر کے چلے گئے۔
اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے درمیان پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے ارکان سے بحث میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے اس معاملے پر ایوان کے سامنے اپنا بیان دیا تھا۔ اراکین کو اس معاملے میں ہنگامہ نہیں کرنا چاہیے اور ایوان کی کارروائی میں مثبت تعاون دینا چاہیے۔ادھر، ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کو ایندھن قیمتوں میں اضافہ کے معاملہ میں گھیرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مہنگائی پر بحث کے لئے تحریک التوا کے نوٹس بھی دئے جا رہے ہیں لیکن چیئرمین کی جانب سے انہیں نامنظور کرتے ہوئے بحث کی جازت نہیں دی جا رہی۔ اس وجہ سے حزب اختلاف کی جماعتیں لگاتار ہنگامہ کر رہی ہیں۔ ہنگامہ کی وجہ سے ایوان کی کارروائی بھی ملتوی کرنا پڑ رہی ہے۔
دریں اثنا، بدھ کے روز بھی ڈیزل اور پٹرول اور پٹرول کے داموں میں 80-80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا۔ گزشتہ 16 دنوں میں 14ویں مرتبہ ایندھن کے داموں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت 105 روپے فی لیٹر سے زیادہ جبکہ ممبئی میں 120 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہو گئی ہے۔ادھر، اندرپرستھ گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل) نے سی این جی کے داموں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ دہلی میں سی این جی کے داموں میں 2.5 روپے فی کلوگرام کا اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں میں سی این جی کے دام 6.60 روپے فی کلوگرام تک بڑھ گئے ہیں۔










