نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج جمعرات کو کہا کہ ہندوستان کی بائیو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت آٹھ سال میں آٹھ گنا بڑھ کر 80ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور ملک اس شعبے میں پہلے دس ممالک کی صف میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ بیان پرگتی میدان میں بائیوٹیک اسٹارٹ اپ ایکسپو 2022کا افتتاح کرتے وقت دیا۔ اس ایکسپو کا مقصد اس علاقے میں خودکفیل ہندوستان مشن کو تقویت پہنچانا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان میں 2014میں جہاں صرف چھ بائیو انکیوبیٹر تھے، آج ان کی تعداد بڑھ کر 75ہو گئی ہے۔ دریں اثنا بائیو ٹیکنالوجی مصنوعات کی تعداد دس سے بڑھ کر سات سو سے زائد ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے بائیو ٹکنالوجی کے شعبے میں انجینئروں اور ماہرین کی دنیا میں اہمیت اسی طرح ہوگئی ہے جس طرح ہمارے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے پیشہ ور افراد کی ہے۔وزیر اعظم نے کہا، “گزشتہ آٹھ برسوں میں ہندوستان کی بایو اکنامی میں آٹھ گنا اضافہ ہواہے۔ دس ارب ڈالر سے بڑھ کر ہم 80ارب ڈالر تک جا چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، “بائیو ٹکنالوجی کے میدان میں عالمی ماحولیاتی نظام کے لحاظ سے ہندوستان ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہونے سے اب زیادہ دور نہیں ہے۔”وزیر اعظم مودی نے بائیو ٹکنالوجی کے میدان میں ملک کی کامیابیوں کو شمار کرتے ہوئے بائیو ایندھن کی ترقی کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا ’’حال ہی میں ہم نے پٹرول میں ایتھنول کی 10 فیصد بلینڈنگ یا ملاوٹ کا ہدف حاصل کیا ہے۔ ہندوستان نے 20فیصد ایتھنول پٹرول کے ہدف کو حاصل کرنے کی مقررہ حد 2030 سے 5 سال کم کر کے 2025 کر لی ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ان تمام کوششوں سے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہم نے اٹل انوویشن مشن، میک ان انڈیا، خودکفیل ہندوستان مہم کے تحت جو بھی اقدامات کئے ہیں، ان کا بھی فائدہ بائیو ٹکنالوجی کے شعبے کو حاصل ہوا ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا کے آغاز کے بعد سے بائیوٹیک اسٹارٹ اپ یونٹس میں سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کی تعداد میں 9 گنا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ 8 برسوں میں ہمارے ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد کچھ ایک سو سے بڑھ کر 70 ہزار ہو گئی ہے۔ یہ 70 ہزار اسٹارٹ اپ تقریباً 60 مختلف صنعتی شعبوں میں بنائے گئے ہیں۔ ان میں بھی 50 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپ بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔‘‘










