awam ki awaz

ایل جی نے ’’ عوام کی آواز‘‘ میں ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے اور سماجی عدم توازن کو دُور کرنے کیلئے راہل کمار کی تجویز کی تعریف کی

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘ کی حالیہ قسط میں خواتین میں ڈیجیٹل لٹریسی کو فروغ دینے کے لئے ضلع سانبہ کے ایک رہائشی راہل کمار کی تجویز کو سراہاہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے خواتین میں ڈیجیٹل لٹریسی کو فروغ دینے کے لئے حکومت کو پیش کردہ راہل کمار کی تجویز کو سراہا ۔ راہل کمار نے ریڈ یو پروگرام ’’ عوام کی آواز ‘‘ میں ان کی تجویز پر غور کرنے پر لیفٹیننٹ گورنر کا شکریہ ادا کیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے راہل کمار کی طرف سے ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے اور ڈیجیٹل شمولیت کے لئے ایک قابل ماحول بنانے کی خاطر پی پی پی ماڈل کے حوالے سے دی گئی تجویز کو خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام سماجی عدم توازن کو دُور کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جامع ترقی ، حکومت کے پروگراموں اور شہریوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنے میں اہم رول اَدا کرتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ تمام دیہاتوں کو ڈیجیٹل طور پر لٹریٹ بنانے کی خاطر وزیر اعظم کے عزم کو پور ا کرنے کے لئے ہم نے ڈیجیٹل جموںوکشمیرشروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آنے والے دِنوں میں اِس مہم کے تحت ، اِنتظامیہ ڈیجیٹل خدمات اور ڈیجیٹل لٹریسی کے لئے کام کرے گی۔راہل کمار جو سول سروسز کی تیاری کر رہے ہیں ، نے کہا کہ جموںوکشمیر میں ڈیجیٹل جنڈر فرق بہت بڑا ہے کیوں کہ جموںوکشمیر کے کل اِنٹرنیٹ اِستعمال کرنے والوں میں سے ایک تہائی سے بھی کم خواتین ہیں اور اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو تقسیم کو ختم کرنے کے لئے کچھ تدارکاتی اقدامات کرنے چاہئیں ۔اُنہوں نے کہا کہ 2020ء میں فیس بُک نے اَپنا’’ وِی تھنک ڈیجیٹل ‘‘ پروگرام یہاں نیشنل کمیشن فاروومن ( این سی ڈبلیو ) اور سائبر پیس فائونڈیشن برائے یوپی اور دیگر ریاستوں کے اِشتراک سے شروع کیا۔اُنہوں نے کہا کہ اِس قسم کے پروگرام جموں وکشمیر میں بھی منعقد کئے جانے چاہئیں۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ایم جی دی آئی ایس ایچ اے ، این ڈی ایل ایم ( نیشنل ڈیجیٹل لٹریسی مشن ) ، بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو ، اِی سخی اور مہیلا اِی ہاٹ جیسے سرکاری اقدامات کو صحیح طریقے سے عملا یا جاناچاہیئے اور ان کی نگرانی کی جانی چاہئے۔راہل کمار نے لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے شروع کئے گئے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘ کی بھی تعریف کی اور اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کا پلیٹ فارم شہریوں کو کسی نہ کسی طریقے سے قوم کی تعمیر میں اَپنا حصہ اَدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ریڈیو پروگرام کے ذریعے لوگ مختلف شعبوں کے حوالے سے اَپنی قیمتی آرأ ، تجاویز اور نظریات کا اِظہار کرتے ہیں جس کا اِستعمال حکومت عوام کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی پالیسیوں کے مسودے کے لئے کر رہی ہے ۔ اِس طرح گورننس کے عمل کو مزید جامع اور عوام پر مرکوز بنایا جارہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے مختلف پروگرام اور پالیسیاں جن کے لئے عام لوگوں سے رائے اور تجاویز لینا اَچھی بات ہے۔