dooran

ایل جی انتظامیہ نے کئی سیاسی لیڈران ،ریٹائرڈ ججوں، صحافیوں کی سیکورٹی واپس لی

سابق سرینگر میر، شریف الدین شارق، جاوید مصطفی میر، محمد شفیع اوڑی اور عمران رضا انصاری کی ذاتی حفاظت ختم

سرینگر///جموں کشمیر ایل جی انتظامیہ نے سابق وزراء، سابق ایم ایل ایز ، سابق جج صاحبان کے علاوہ کئی سینئر صحافیوں اور سابق میر سرینگر کی ذاتی حفاظت کو ختم کرتے ہوئے ان کی سیکورٹی واپس لے لی ہے ۔ یہ اقدامات جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات سے قبل اُٹھائے جاچکے ہیں ۔ جن سیاسی لیڈران کی سیکورٹی واپس لی گئی ہے ان میں سابق وزیر یا ایم ایل اے ، عمران رضا انصاری، شریف الدین شارق، محمد شفیع اوڑی ، جاوید مصطفی میر بھی شامل ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق یو ٹی اسمبلی کے متوقع انتخابات سے قبل لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے کئی اہم سیاسی رہنماؤں اور سابق ججوں اور پولیس افسران کے علاوہ کچھ صحافیوں کی ذاتی سکیورٹی واپس لے لی۔ذرائع نے بتایا کہ اس عمل میں کافی سوچ بچار کی گئی تھی اور ریاستی سطح کی کمیٹی (ایس ایل سی) نے 30 مارچ 2024 کو کچھ وی آئی پیز سے سیکورٹی اور گارڈ واپس لینے کا فیصلہ کیا۔کچھ اعلیٰ پولیس افسران، ججوں اور بیوروکریٹس کے علاوہ کچھ صحافیوں سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سابق آئی پی ایس افسر منیر احمد خان کی ذاتی حفاظت کو ختم کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سابق سرینگر میر جنید اعظم متو ،سابق جسٹس محمد یعقوب میر ریٹائرڈ،چیف جسٹس منصور احمد میر فاروق احمد شاہ، ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر، فی الحال این سی لیڈر؛ سابق ایم پی شریف دین شارق۔ سابق ایم ایل اے، محمد شفیع اوڑی؛ سابق وزراء، جاوید مصطفی میر، ایم اشرف میر اور عمران رضا انصاری اور کئی دیگر،کچھ میڈیا والوں کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔پولیس انتظامیہ نے 57 وی آئی پیز کی فہرست جاری کی ہے جن کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے اور اس حکم نامے پر ایس ایس پی سری نگر کے دستخط ہیں۔انتظامیہ کے فیصلے نے یہاں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور لوگ فیصلے کے وقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔