Pakistan violates ceasefire agreement on LoC for 12th day

ایل او سی پر پاکستان کی 12ویں دن بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی

بھارتی فوج نے موثر جواب دیتے ہوئے گولہ باری جاری رکھی، کہیں سے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں

سرینگر//پاکستان نے گزشتہ رات ایک بار پھر ایل او سی پر فائرنگ کی، جس کا ہندوستانی فوج نے مؤثر جواب دیا۔ پہلگام حملے کے بعد کشیدگی کے درمیان ہندوستان نے پاکستان سے ہر قسم کی تجارت بند کر دی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پاکستان نے گزشتہ رات ایک بار پھر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ یہ فائرنگ جموں کے راجوری، مینڈھر، نوشہرہ، سندربنی، اکھنور اور کشمیر کے کپواڑہ و بارہمولہ سیکٹرز میں کی گئی۔ پاکستانی فوج کی جانب سے چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس پر ہندوستان فوج نے روایتی انداز میں فوری اور بھرپور جواب دیا۔خیال رہے کہ پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کو 12 دن گزر چکے ہیں لیکن سرحد پر حالات اب تک معمول پر نہیں آ سکے۔ لگاتار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں نے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ہندوستانی فوجی حکام کے مطابق پاکستانی افواج کی یہ کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ حالات کو مزید بگاڑنے کا باعث بن رہی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اشتعال انگیزی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی دباؤ سے توجہ ہٹانا ہے۔ان سرحدی کارروائیوں کے بعد حکومتِ ہند نے پاکستان کے خلاف اپنے ردِعمل کو مزید سخت کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ تازہ ترین اقدام کے تحت قومی سلامتی اور عوامی پالیسی کے پیشِ نظر پاکستان سے تمام درآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس پابندی کے بعد اب کسی بھی پاکستانی مصنوعات کو ہندوستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان سے چلنے والی تمام ڈاک خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ہندوستانی بندرگاہوں پر پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کے داخلے پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔یہ فیصلہ اْس سلسلے کا تسلسل ہے جو پہلگام حملے کے بعد فوری طور پر شروع کیا گیا تھا۔ اس سے قبل، حکومت ہند نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے، اٹاری بارڈر کو بند کرنے اور اسلام آباد سے سفارتی تعلقات محدود کرنے جیسے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ہندوستان کے ان فیصلوں کا مقصد پاکستان کو سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک سطح پر دباؤ میں لانا ہے، تاکہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے اور سرحدی امن کو بحال کرے۔