پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایشیا کپ کے انعقاد کے حوالے سے ایشین کرکٹ کونسل کے ساتھ ہائبرڈ ماڈل پر مذاکرات چل رہے ہیں اور ہم نے ایشیا کپ دو سال بعد ہماری میزبانی میں منعقد کرنے کی پیشکش مسترد کردی۔ڈان نیوز کے پروگرام ’ری پلے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ بابر اعظم کی قیادت کے حوالے سے کوئی کنفیوژن نہیں ہے، مکی آرتھر سلیکٹرز ور ڈیٹا کی بنیاد فیصلے ہوں گے، ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہے جو بابر کے خلاف جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایشین کرکٹ کونسل کے ساتھ ہائبرڈ ماڈل پر مذاکرات چل رہے ہیں، وہاں بہت سے مسئلے ہیں، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر نیوٹرل مقام پر کھیلیں گے تو کہاں کھیلنا ہے، تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ براڈ کاسٹ رائٹس کا تعلق ایک پروڈکشن ٹیم کے ساتھ ہے تو وہ ایک مسئلہ ہے جبکہ لاجسٹک مسائل بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سے کہا گیا کہ ایشیا کپ پاکستان سے منتقل کر سکتے، انہوں نے پیشکش کی تھی کہ آپ میزبان ہیں تو بنگلہ دیش یا سری لنکا کے ساتھ بدل لیں تاکہ نیوٹرل وینیو والی بات ہی نہ ہو اور دو سال بعد ان کی باری آئے تو وہ آپ لے لیجیے گا لیکن ہم نے اس پیشکش سے انکار کردیا۔چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی نے کہا کہ ہم نے ابھی آئی سی سی ورلڈ کپ پر کوئی بات نہیں کی، ابھی ایشین کرکٹ کونسل سے بات چل رہی ہے اور اگر ہائبرڈ ماڈل کام کر جاتا ہے تو پھر بات آگے بھی بڑھ سکتی ہے لیکن بات ابھی وہاں تک پہنچی نہیں ہے۔










