ایران پر حملے کیلئے اسرائیلی فوج کی تیاری

28-01-2021/=اسرائیل میں ایران پر حملہ کی صلاحیت ہی نہیں، ایرانی چیف آف اسٹافتل ابیب: اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل اپپوو نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں نئی حکومت آنے کے بعد سے ایران کے خلاف حملوں کے نئے منصوبے بنائے ہیں جس کے لیے سیاسی قیادت کی منظوری کا انتظار ہے۔اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اییوو نے تل ابیب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز سے خطاب میں ایران پر حملے کا اشارہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے نیوکلیئر معاہدے کو بحال کیا تو ایران پر حملوں میں اضافہ کردیں گے۔اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے کہا کہ ایران کے ساتھ 2015 کے نیوکلیئر معاہدے میں کسی بھی طرح امریکی کی واپسی ایک بڑی غلطی ہوگی۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ایران پر حملوں کے موجود منصوبوں کے علاوہ متعدد دیگر آپریشنل منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اب بس حملوں کی حکومت سے منظوری کا انتظار ہے۔اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا ایران پر حملے سے متعلق بیان اْس وقت سامنے آیا ہے جب نئے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی سابق پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا گیا تھا۔اسی دوران صدر حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف محمود واعظی نے کہا کہ اسرائیل کے پاس نہ تو ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی صلاحیت ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی کے چیفآف اسٹاف محمود واعظی نے اسرائیل کی حملے کی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ یہ نفسیات کی جنگ ہے اور ہم جانتے ہیں اسرائیل کے پاس نہ تو حملے کا کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی صلاحیت موجود ہے۔محمود واعظی نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صہیونی حکومت کے کچھ عہدیدار سمجھتے ہیں کہ امریکہ ان کی باتوں کو قبول کرے گا لیکن امریکہ خود مختار ملک ہے جو اسرائیل کی نہیں سنے گا۔