واشنگٹن : امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران اپنے ’نیوکلیر ہتھیاروں کا پروگرام‘ ترک نہیں کرتا تو اسرائیل، ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حملے کی ’قیادت‘ کرے گا۔ یہ بیان امریکہ اور ایران کے مابین آئندہ مذاکرات سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چہارشنبہ کے روز ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو ہم فوج استعمال کریں گے۔ اسرائیل اس میں یقیناً بہت زیادہ ملوث ہو گا اور وہ اس کی قیادت کرے گا۔ لیکن کوئی ہمیں نہیں چلاتا، ہم وہی کرتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات کے نتائج کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں رکھتے لیکن ان کا خیال ہے کہ ”مذاکرات اچھے طریقہ سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے رواں ہفتہ صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ مقصد ایران کو نیوکلیر ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔
نیتن یاہو، جو ایران کے حوالے سے سخت گیر موقف کے لیے جانے جاتے ہیں، نے 2003 میں لیبیا کے معاہدے کی طرز پر ایک سفارتی سمجھوتے کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت لیبیا نے اپنا خفیہ نیوکلیر پروگرام مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔










