بچوں کی واپسی کیلئے مرکز اور جموں کشمیر حکومت سے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی
سرینگر // ایران اور اسرائیل کے مابین جاری تنائو کے بیچ ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے والدین نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے ان کی بحفاظت واپسی کیلئے اقدامات اٹھانے کی مرکزی سرکار سے اپیل کی ۔ سی این آئی کے مطابق ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کے افراد خانہ نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے بچوں کو بحفاظت ایران سے کشمیر واپس لایا گیا ۔ اتوار کی صبح پریس کالونی میں والدین کے ایک گروپ نے جمع ہوکر پُر امن احتجاج کیا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں ان کے بچے زیر تعلیم ہے وہ ان کی حفاظت کو لیکر کافی فکر مند ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے بچے وہاں غیر محفوظ ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کو واپس لانے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے ۔ ایک والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ’’ میرا بیٹا ایران میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تاہم گزشتہ دنوں سے وہاں کی حالات کو لیکر ہمیں یہا ں کافی فکر ہو رہی ہے ۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم کافی تشویش میں ہے اور مرکز و جموں کشمیر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو واپس لانے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے والدین ایسے ہیں جن کو اپنے بچوں کی سلامتی کو لیکر کافی فکر و تشویش ہے اور کہا کہ ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری حکومتی مداخلت چاہئے ۔ گروپ نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ، ہندوستانی وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر ایران سے ان کے انخلاء کی سہولت کے لیے فوری کارروائی کرے۔انہوں نے مقامی نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ ایرانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی میں اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ طلباء کی حفاظت اور بروقت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔قبل ازیں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے لیے ہیلپ لائن نمبر شیئر کیے تھے۔ایسوسی ایشن نے کہا ’’ متعدد طلبا نے ہوائی حملے کے سائرن سننے، زلزلے کے جھٹکے محسوس کرنے، اور اپنے رہائشی علاقوں کے قریب عسکری سرگرمیاں دیکھنے کی اطلاع دی ہے جو ان کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر رہی تھی‘‘۔










