فضائی حدود بند ہونے سے قبل گھروں کو لوٹ آئیں//فاروق عبداللہ
سرینگر//یو این ایس/ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اْن طلبہ سے جو ایران میں زیرِ تعلیم ہیں، فوری طور پر وطن واپس آنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فضائی حدود بند ہو گئی تو بعد میں انخلاء مشکل ہو سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں بھارت کے سفارتخانے نے اپنی تازہ ایڈوائزری میں بھارتی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ دستیاب ذرائع آمد و رفت، بشمول کمرشل پروازوں کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔ یہ ایڈوائزری ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد جاری کی گئی ہے، جو جنوری میں حکومت مخالف ریلیوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی چہلم کی تقریبات کے تناظر میں شروع ہوئے۔فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘میں جموں و کشمیر کے طلبہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ فوراً ایران چھوڑ دیں۔ اگر کل فضائی حدود بند ہو گئی تو اْن کے والدین میں بے چینی پھیل سکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ حالات خراب ہوں، انہیں اپنے بیگ پیک کر کے گھر واپس آ جانا چاہیے۔ جب ایڈوائزری جاری ہو چکی ہے تو تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔ بعد میں انخلاء کے لیے کوئی موجود نہیں ہوگا۔وہ یہ باتیں پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری شیخ نذیر احمد کی گیارہویں برسی کے موقع پر صورہ، سری نگر کے مضافات میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔اس موقع پر انہوں نے جموں و کشمیر کی کرکٹ ٹیم کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا، جو منگل کے روز کرناٹک کے خلاف رانجی ٹرافی کے فائنل میں حصہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا، ‘‘اللہ انہیں کامیابی عطا کرے۔ فائنل تک پہنچنا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ہم انہیں اس مقام تک پہنچنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ فائنل جیتیں گے۔فلم ’’کیرالا اسٹوری 2‘‘ سے متعلق سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ میڈیا پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ‘‘میں آپ کو بتا دوں کہ ہم اپنے میڈیا پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ یہ جھوٹ پر مبنی ہے اور حکومت کے دباؤ میں ہے۔ جب تک میڈیا اپنی ساکھ مضبوط نہیں کرے گا، عوام اس پر اعتماد نہیں کریں گے۔انہوں نے شیخ نذیر احمد کو پارٹی کا مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جماعت کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔ ‘‘ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا’’وہ نیشنل کانفرنس کی طاقت کا ستون تھے اور بطور جنرل سیکریٹری انہوں نے پارٹی کو مضبوط کیا، جس کی کامیابی آج نظر آ رہی ہے۔ ان شاء اللہ، مجھے امید ہے کہ یہ جماعت اپنے بانیوں کے وڑن کے مطابق آگے بڑھتی رہے گی۔‘‘










