ایران میں اسلامی حکومت قائم کی اور اسرائیل-امریکہ کو آخری دم تک ٹکر دی، ایسی رہی آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائی میں ان کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا، اسرائیلی دعوے کے مطابق اس دوران خامنہ ای بھی وہیں موجود تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای اور دیگر ایرانی حکام امریکی انٹیلی جنس اور جدید ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکتے تھے۔ آج (یکم مارچ) کو ایرانی میڈیا نے بھی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پورے مشرق وسطیٰ کے پاور ڈائنامکس کو تبدیل کر سکتی ہے اور ایران کے لیے ایک ایسا نقصان ثابت ہو سکتی ہے جس کی بھرپائی نہیں کی جا سکتی۔ علی خامنہ ای نے 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد اسلامی جمہوریہ کی کمان سنبھالی تھی۔ آیت اللہ خمینی ایک کرشماتی رہنما تھے جنہوں نے ایک دہائی قبل اسلامی انقلاب کی قیادت کی تھی۔
خمینی اس انقلاب کے پیچھے کارفرما نظریاتی قوت تھے جس نے پہلوی بادشاہت کا خاتمہ کیا، لیکن خامنہ ای ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے وہ فوجی اور نیم فوجی نظام تشکیل دیا جو ایران کو اس کے دشمنوں سے بچاتا ہے اور اس کی سرحدوں سے باہر بھی اس کا دفاع کرتا ہے۔ علی خامنہ ای آج نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے شیعہ مسلمانوں کے رہنما مانے جاتے تھے، جبکہ حال ہی میں فلسطین کے حوالے سے ان کے موقف کے بعد سنی مسلمانوں میں بھی ان کی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا۔ ان کی زندگی اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک شخصیت کے طور پر جانی جاتی رہے گی۔
علی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ صوبہ خراسان کا ایک بڑا شیعہ مذہبی عقائد والا شہر ہے، جہاں امام رضا کا مزار ہے۔ خامنہ ای کی پیدائش آذری نسل کے ایک مذہبی عالم کے خاندان میں ہوئی تھی، ان کے والد، جواد خامنہ ای، ایک عالم اور مجتہد تھے جو اصل میں نجف، عراق کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے ابتدائی قرآنی تعلیم مشہد سے حاصل کی اور پھر قم میں اعلیٰ اسلامی تعلیم مکمل کی، جہاں انہوں نے آیت اللہ روح اللہ خمینی جیسی اہم شخصیات سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے انقلابی خیالات نے خامنہ ای پر گہرا اثر ڈالا۔ 1960 کی دہائی سے شاہ کے خلاف مظاہروں میں سرگرم رہنے کی وجہ سے خامنہ ای کو کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد انہوں نے اہم کردار ادا کیے، وہ انقلابی کونسل کے رکن، نائب وزیر دفاع، کچھ عرصے کے لیے آئی آر جی سی کمانڈر اور ایران یرغمالی بحران کے مذاکرات میں اہم شخصیت رہے۔ انہوں نے ایران-عراق جنگ کے دوران ایران کے تیسرے صدر (1989-1981) کے طور پر کام کیا۔ 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد ماہرین کی اسمبلی نے خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا اور وہ 36 سال سے زائد عرصے تک اس عہدے پر فائز رہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فوجی آپریشن کرتے ہوئے ایران کی ایٹمی، میزائل اور قیادت کے مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں، جس میں فضائی حملے اور میزائل بیراج شامل تھے، تہران میں خامنہ ای کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ خامنہ ای کمپاؤنڈ کی سیٹلائٹ تصاویر میں بہت زیادہ نقصان اور مقام سے کالا دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی افسران نے اندازہ لگایا کہ خامنہ ای ابتدائی حملوں میں مارے گئے اور رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ ان کی لاش ملبے سے ملی تھی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر سب کے سامنے موت کی تصدیق کی، خامنہ ای کو تاریخ کے برے ترین لوگوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ حملوں میں انہیں اور دیگر رہنماؤں کو ختم کرنے کے لیے جدید ترین انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کا استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف ایران میں ان کی موت کے بعد 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس کا بدلہ لینے کا عہد کیا گیا ہے۔