ایران سے ریسکوکئے گئے 80 کشمیری طلبہ کا دوسرا قافلہ دہلی پہنچ گیا

ایران سے ریسکوکئے گئے 80 کشمیری طلبہ کا دوسرا قافلہ دہلی پہنچ گیا

حکومتی انتظامات کے تحت طلبہ کی واپسی، جموں و کشمیر کے لیے اے سی بسوں کا بندوبست

سرینگر/یو این ایس// ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وہاں سے نکالے گئے کشمیری طلبہ کا دوسرا قافلہ، جس میں 80 طلبہ شامل تھے، پیر کی رات اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دہلی پہنچ گیا۔یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق ان طلبہ کو آرمینیا کے راستے پہلے دبئی منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں پرواز کے ذریعے نئی دہلی لایا گیا۔ یہ انخلا آپریشن حکومتِ ہند کی جانب سے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔طلبہ کی دہلی آمد کے بعد جموں و کشمیر وزیر اعلیٰ کے دفتر نے ان کی واپسی کے لیے خصوصی انتظامات کیے، جن کے تحت اے سی سلیپر بسیں فراہم کی گئیں تاکہ وہ محفوظ اور آرام دہ طریقے سے اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔یہ انتظامات وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر سوگامی کی نگرانی میں کیے گئے تاکہ طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس سے قبل 15 مارچ کو پہلے مرحلے میں 70 سے زائد بھارتی طلبہ، جن میں اکثریت جموں و کشمیر سے تعلق رکھتی تھی، بحفاظت واپس پہنچے تھے۔ذرائع کے مطابق طلبہ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں بشمول تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور ارومیہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیرِ تعلیم تھے، جنہیں خراب ہوتی صورتحال کے پیش نظر پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔یہ انخلا وزارتِ خارجہ اور تہران و یریوان میں بھارتی مشنز کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہوا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے آرمینیا کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بھارتی شہریوں کے محفوظ انخلا میں تعاون کیا۔حکام کے مطابق اب تک 550 سے زائد بھارتی شہریوں کو ایران سے نکالا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 9 ہزار بھارتی اب بھی وہاں مقیم ہیں جن میں طلبہ، تاجر، پیشہ ور افراد اور زائرین شامل ہیں۔متعدد طلبہ مسلسل کئی دنوں کے طویل سفر کے باعث تھکن کا شکار دکھائی دیے، جن میں سے کچھ نے سڑک کے ذریعے واپسی کا سفر اختیار کیا جبکہ بعض نے سری نگر کے لیے براہِ راست پروازیں بک کرائیں۔