ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد پاکستان کے شہر کراچی میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرین بڑی تعداد میں امریکی قونصلیٹ کے باہر جمع ہوئے اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق مائی کولاچی سے سلطان آباد جانے اور آنے والے دونوں راستوں کو بلاک کر دیا گیا۔ کچھ مظاہرین مبینہ طور پر امریکی قونصلیٹ کی حدود میں داخل ہو گئے اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران تقریباً 8 افراد کی موت ہو گئی اور متعدد زخمی ہو گئے۔
پاکستانی نیوز چینل ’سما ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ سیکورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ فی الحال صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے اور حکام نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ کا اثر اب جنوبی ایشیا میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے احتجاجی مظاہرے کئی سطحوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، اس سے ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ سفارت خانے اور قونصل خانے کسی بھی ملک کی باضابطہ موجودگی کی علامت ہوتے ہیں۔ دوسرے، ایسے حالات سیکورٹی کے نظام کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اضافی وسائل لگانے کی ضرورت پڑے گی۔ تیسرے، بین الاقوامی مشنز اور غیر ملکی شہریوں کی حفاظت سے متعلق خدشات بڑھ جائیں گے جس سے عالمی سطح پر بھی ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔










