ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات ملتوی

ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے مذاکرات کار 2015 کے ایٹمی معاہدے کی بحالی کو ملتوی کرتے ہوئے اپنے اپنے ملک واپس چلے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس اراقچی نے ویانا سے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’اب ہم معاہدے کے قریب تر ہیں تاہم جو فاصلہ ہمارے اور معاہدے کے درمیان موجود ہے اسے ختم کرنا آسان کام نہیں ہے، ہم آج رات تہران واپس آئیں گے‘۔

اپنے حالیہ دور میں ایک ہفتے سے زیادہ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد معاہدے کے فریقین نے اسے ملتوی کردیا اور روس کے سفیر نے بتایا کہ فی الوقت مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً 10 دن میں واپس آسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ویانا میں اپریل سے بات چیت جاری ہے کہ ایران اور امریکا کو جوہری معاہدے کی مکمل تعمیل پر واپس آنے کے لیے ایٹمی سرگرمیوں اور پابندیوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

یورپی یونین کے پولیٹیکل ڈائریکٹر نے ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ہم نے رواں ہفتے اس چھٹے دور میں اہم پیشرفت کی ہے، ہم ایک معاہدے کے قریب ہیں لیکن اب بھی وہاں پہنچے نہیں ہیں‘۔

یاد رہے کہ 2018 میں امریکا، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگیا تھا اور اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی گئی تھیں۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ اس معاہدے کو بچانے کے طریقوں پر اختلافات برقرار ہیں اور دہرایا کہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ آیت اللہ خامنہ ای کریں گے۔

جیک سلیوان نے ‘اے بی سی نیوز’ کو بتایا کہ ’پابندیوں اور ایران کے ساتھ جوہری وعدوں جیسے چند اہم معاملات ہیں جن کا پورا ہونا باقی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر پابندیاں ختم کرنے کے سوال پر ابھی بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ انہوں نے آسٹریا میں ہونے والے ایک ممکنہ معاہدے کے متن میں ترمیم کی ہے اور کہا ہے کہ اسے ’شفاف سے شفاف تر‘ بنایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگست کے وسط تک موجودہ ایرانی انتظامیہ کے اقتدار چھوڑنے سے قبل معاہدہ طے پانے کا پورا امکان ہے‘۔