ایران میں پھنسے کشمیریوں کی واپسی کی کوششیں جاری / وزیر اعلیٰ
سرینگر// یو این ایس / وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری لنکا کے ساحل پر امریکی آبدوز کے ذریعے ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کے ڈوبنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز میلان بحری مشق کے لیے ہندوستان کا مہمان تھا۔ اس واقعے نے خاص طور پر ایران میں طلباء سمیت جموں و کشمیر کے رہائشیوں میں تشویش کا باعث بنا ہے۔ حکومت ان کی حفاظت کو یقینی بنانے اور انہیں گھر لانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے کے لیے مرکز کے ساتھ تال میل کر رہی ہے۔جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر میں بھی تشویش کی فضا پیدا ہوئی ہے کیونکہ خطے کے کئی باشندے، جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، اس وقت ایران میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایرانی جنگی جہاز پر حملہ کیا گیا۔ وہ ہمارے مہمان تھے اور بحری مشق میں شرکت کے لیے یہاں آئے تھے۔ واپسی کے دوران ان پر حملہ ہوا۔ کسی نہ کسی طرح ہمارا ملک بھی اس صورتحال سے جڑ گیا ہے۔ آگے کیا ہوگا، یہ میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت اس معاملے میں مرکزی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے باشندوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ایسے شہریوں کو بحفاظت واپس لانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر رہی ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر عوام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی افواہ پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور کوئی بھی شرپسند عنصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔عمر عبداللہ نے بدھ کو سرینگر میں مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تھی جس میں مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور خطے میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔نیپال میں عام انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں انتخابات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیپال کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیس کمار کے راجیہ سبھا میں جانے کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے کہا کہ “نتیش کمار بہار کے طویل عرصہ تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور کسی نہ کسی وقت ان کی مدت کا اختتام ہونا فطری تھا۔”انہوں نے کہا کہ یہ بہار حکومت اور اس کے اتحادیوں کا اندرونی معاملہ ہے تاہم چونکہ نتیش کمار کبھی ان کے ساتھ انڈیا بلاک میں شامل رہے ہیں اس لیے انتخابات کے تین ماہ بعد ان کا راجیہ سبھا جانا قابل ذکر ہے۔ انہوں نے نتیش کمار کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ “وہ مستقبل میں راجیہ سبھا میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔”










