اہل پنشنروںکیلئے مرکزی طبی سہولیات میں توسیع

31 اکتوبر 2019 کے بعد ریٹائر ملازمین ہی مستحق قرار

سرینگر/یواین ایس // جموں و کشمیر حکومت نے اہل سرکاری پنشنروںکو سینٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت صحت سے متعلق فوائد مخصوص شرائط و ضوابط کے ساتھ دستیاب ہوں گے۔ سرکاری حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد جموں و کشمیر کے اہل پنشنر اور مرکزی حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین کے درمیان صحت کی سہولیات میں برابری کو یقینی بنانا ہے، تاہم مستحقین کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے گا تاکہ فوائد کا دوہرا استعمال روکا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق سینئر حکام نے واضح کیا کہ صرف وہی جموں و کشمیر سرکاری ملازمین جو 31 اکتوبر 2019 کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں، سی جی ایچ ایس سہولیات سے استفادہ کے اہل ہوں گے۔ اس تاریخ سے قبل ریٹائر ہونے والے پنشنرز اس اسکیم کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گے۔البتہ سی جی ایچ ایس سہولیات حاصل کرنے کیلئے ایک اہم شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق جو پنشنرز سی جی ایچ ایس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، انہیں اپنا آیوشمان بھارت ہیلتھ کارڈ واپس کرنا ہوگا، کیونکہ دونوں اسکیموں سے بیک وقت فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق حکام نے مزید کہا کہ اہل پنشنروںکو سی جی ایچ ایس میں اندراج کیلئے باضابطہ طور پر اپنی رضامندی ظاہر کرنا ہوگی اور مقررہ طریقہ کار مکمل کرنا ہوگا، جس میں حلف نامہ جمع کرانا اور آیوشمان بھارت کارڈ سرنڈر کرنا شامل ہے۔ ان تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی وہ سی جی ایچ ایس سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔سی جی ایچ ایس کے تحت سرکاری اور منظور شدہ نجی اسپتالوں میں او پی ڈی علاج، ماہر ڈاکٹروں سے مشاورت، تشخیصی ٹیسٹ اور داخلہ علاج سمیت جامع طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اہل ریٹائرڈ ملازمین کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔حکومت کی جانب سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس فیصلے کے مؤثر نفاذ اور فوائد کی دوہرائی سے بچاؤ کیلئے تفصیلی رہنما خطوط (گائیڈ لائنز) بھی جاری کی جائیں گی۔