اے ایس دلت جیسے دوستوں کا ساتھ ہو تو ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ
سرینگر // اگر محبوبہ مفتی کو سابق را چیف دلت کی لکھی ہوئی ہر بات سچ مانتی ہے تو کیا ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی پہلی کتاب میں ان کے والد مرحوم مفتی سعید کے بارے میں بھی لکھا وہ بھی سچ تھا کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ وقف قانون پر مسلمانوں کے خدشات کو دور کرے گی۔ سی این آئی کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے بارے میں را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کی تازہ ترین کتاب پر ان کے تبصرے کیلئے نشانہ بنایا۔جموں میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبد للہ نے کہا ’’اگر محبوبہ مفتی کو دولت کی لکھی ہوئی ہر بات سچ مانتی ہے تو کیا ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی پہلی کتاب میں ان کے والد مرحوم مفتی محمد سعید کے بارے میں کیا لکھا ہے؟وہ بھی سچ تھا ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اگر ہم اسے سچ مانتے ہیں تو محبوبہ لوگوں کو کیسے سمجھائیں گی؟ وہ براہ کرم اس کا جواب دیں‘‘۔انہوں نے ولت پر مزید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کتابوں کی فروخت کو بڑھانے کیلئے حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ان کی عادت ہے۔ ’’ایسے دوستوں کے ساتھ، دشمنوں کی کس کو ضرورت ہے؟۔ ‘‘ عمر نے وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 پر سپریم کورٹ کے مشاہدات کا خیرمقدم کیا، ور امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کے اس مسئلہ پر فیصلہ آنے کے بعد مسلم کمیونٹی کی طرف سے ظاہر کیے گئے خدشات کو دور کیا جائے گا۔عبداللہ نے کہا’’سوال و جواب کا عمل جاری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جب سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنائے گی، تو وقف قانون پر مسلم کمیونٹی کی طرف سے ظاہر کیے گئے خدشات دور ہو جائیں گے۔ ‘‘ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت سے پوچھے گئے سوالات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’عدالت عظمیٰ نے کچھ نکتے سوال پوچھے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ سب سے مشکل سوال یہ پوچھا گیا تھا ، اگر آپ وقف کے معاملات میں غیر مسلموں کو شامل کر رہے ہیں، تو کیا آپ ہندوؤں سے متعلق معاملات میں مسلمانوں کو شامل کریں گے؟ حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا‘‘۔عبداللہ نے وقف قانون کو لے کر مغربی بنگال میں حالیہ تشدد پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تشدد نہیں ہونا چاہیے، اور ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے۔انہوں نے کہا ’’ ہمیں اس (وقف قانون) کا مقابلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ قانونی چینل کے ذریعے کرنا چاہیے۔ ہمیں عدلیہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، کیونکہ ہم سڑکوں پر آ کر ایکٹ کو تبدیل نہیں کر سکیں گے‘‘۔پاکستانی آرمی چیف کے ریمارکس پر وزارت خارجہ کے رد عمل کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا’’پارلیمنٹ نے حکم دیا ہے کہ حکومت کو اس علاقے (پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر) پر دوبارہ دعویٰ کرنا چاہیے اور یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے‘‘۔عمر نے کہا ’’ یہ 90 کی دہائی کے اوائل میں کشمیر کے دوسرے حصے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد پر مبنی ہے، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جب پاکستان کے زیر قبضہ علاقے کی بات آتی ہے تو آپ سب کود پڑتے ہیں، لیکن آپ چین کے ساتھ والے علاقوں کے بارے میں خاموش کیوں ہیں؟۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر آپ پاکستان کے زیر قبضہ علاقے کے بارے میں آواز اٹھاتے ہیں تو آپ کو چین کے زیر قبضہ حصوں کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیے۔‘‘










