جموں//حکومت نے وضاحت کی کہ اچھہ بل میں نئی پی ایچ ای ڈویژن قائم کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے کیوں کہ اس علاقہ کو پی ایچ ای سب ڈویژن اننت ناگ اور پی ایچ ای سب ڈویژن کوکر ناگ کے ذریعے مناسب طور پر پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے ایوان میں قانون ساز عبدالمجید لارمی کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اچھہ بل کا علاقہ جل شکتی ( پی ایچ ای ) ڈویژن بیج بہاڑہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اچھہ بل علاقہ کو پی ایچ ای سب ڈویژن اننت ناگ اور پی ایچ ای سب ڈویژن کوکر ناگ کے ذریعے مؤثر طریقے سے پانی کی سپلائی کی جا رہی ہے ۔ جاوید رانا نے کہا کہ چونکہ بڑی تعداد میں فعال واٹر سپلائی سکیمیں ( ڈبلیو ایس ایسز) موثر طریقے سے کام کر رہی ہیں اور بوجھ متوازن ہے اس لئے فی الحال اچھہ بل میں الگ پی ایچ ای ڈویژن قائم کرنے کی کوئی فنکشنل یا انتظامی جواز نہیں ہے ۔ اُنہوںنے مزید بتایا کہ کُل سکیموں میں سے 70 واٹر سپلائی سکیمیں جو اس علاقے کو فیڈ کرتی ہیں ، انہیں جل جیون مشن ، یو ٹی کیپیکس اور نبارڈ کے تحت تقریباً 17182.02 لاکھ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا ہے جن میں سے 52 سکیمیں پہلے ہی فعال ہو چکی ہیں اور باقی سکیمیں مختلف مراحل میں زیر عمل ہیں ۔ اِس ضمن میں قانون ساز الطاف احمد کلو اور حسنین مسعودی نے ضمنی سوالات اُٹھائے ۔










