اپنی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوںکا شیخ باغ میں احتجاج

اپنی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوںکا شیخ باغ میں احتجاج

آج ہی اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے:الطاف بخاری

سری نگر// حدبندی کمیشن کی سفارشات اوردیگر معاملات کولیکر بدھ کے روز اپنی پارٹی کے کارکنوں نے شیخ باغ سے لالچوک تک مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اُنھیں پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی ۔اس دورن پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہاکہ ہم آج ہی اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے ۔ حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ سفارشات کے خلاف جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے بدھ کے روز شیخ باغ میں احتجاج درج کیا تاہم احتجاجیوں کو تجارتی مرکز لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے جن پر حد بندی کمیشن کی رپورٹ ناقابل قبول ہے، جیسے نعرے درج تھے اور وہ ’لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ ہوش میں آؤ ہوش میں آؤ‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔اس موقع پر پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے میڈیا کو بتایا کہ آج ہم حد بندی کمیشن کی رپورٹ، رئیل اسٹیٹ پالیسی کے تحت پچھلے دروازے سے یہاں باہر کے لوگوں کو بسانے کی کوششوں، پریس کی آزادی اور حیدر پورہ ہلاکتوں کو لے کر یہاں احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یہاں سرمایہ کاری کرنے کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ ہمارا آج ہی اجلاس ہونے والا ہے جس میں ہم آگے کی حکمت عملی کے بارے میں فیصلہ لیں گے۔پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کے یکم جنوری کو کئے جانے والے احتجاج کے بارے میں انہوں نے کہاکہہمیں احتجاج نہیں کرنے دیا گیا، خدا کرے انہیں احتجاج کرنے دیا جائے وہ ان کے اپنے لوگ ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ سفارشات کے مطابق صوبہ جموں کو 6نئی سیٹیں جبکہ کشمیر کو ایک ہی سیٹ دی گئی ہے اور کل90 اسمبلی نشستوں میں سے اب9 نشستیں شیڈول ٹرائب اور7 نشستوں کو شیڈول کاسٹ کے لئے مختص رکھی گئی ہیں۔جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، اپنی پارٹی اور پیپلز کانفرنس نے اس رپورٹ کو نا قابل قبول قرار دیا ہے۔پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن نے یکم جنوری کو ان ڈرافٹ سفارشات کے خلاف سری نگر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔