اٹلی کے وزیر اعظم ماریو دراگی نے اتحادیوں کی جانب سے اعتماد کا ووٹ مسترد کرنے کے بعد ملک میں جاری سیاسی بحران اور مالیاتی منڈیوں میں ہونے والے نقصان پر استعفیٰ صدر سرجیو ماتاریلا کو بھجوا دیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر سرجیو ماتاریلا کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے سربراہ نے وزیر اعظم کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جبکہ ان کو نگران کی حیثیت میں عہدے پر رہنے کا کہا گیا ہے۔
تاہم، بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ صدر اس سے آگے کیا کریں گے، مگر سیاسی ذرائع کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے وہ اسمبلی تحلیل کرکے اکتوبر میں نئے انتخابات کے حوالے سے بات کر سکتے ہیں۔
صدر کی آج پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اسیپکروں سے ملاقات بھی متوقع تھی۔
اٹلی کا حکومتی اتحاد بدھ کو اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا جب اطالوی وزیر اعظم کے تین اہم اتحادیون نے اعتماد کا ووٹ مسترد کیا تھا، جس کے ذریعے وزیر اعظم نے تقسیم ختم کرنے اور اپنے متنازع اتحاد کی تجدید کی کوشش کی تھی۔ملک میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے چند مہیوں سے ملک میں سیاسی استحکام غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے، اسے دوران وزیر اعظم نے یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف یورپ کی جانب سے سخت ردعمل دینے میں مدد کی تھی اور مالیاتی منڈیوں میں ملکی اثر و رسوخ کو بڑھایا تھا۔دوسری جانب جمعرات کو اطالوی بانڈ اور اسٹاک تیزی سے فروخت ہو گئے تھے کیونکہ مارکیٹوں کو 2011 کے بعد سے یورپی مرکزی بینک کی جانب سے پہلی بار شرح سود میں اضافہ ملا ہے۔ ابتدائی تجارت میں بینچ مارک 10 سالہ اطالوی بانڈز کی پیداوار 20 بیسس پوائنٹس سے بڑھ کر تین ہفتوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ اطالوی اسٹاک 1.8 فیصد نیچے آ گیا۔
ایل سی میکرو ایڈوائزرز کے سربراہ اور اطالوی وزارت خزانہ کے ایک سابق سینئر عہدیدار لورینزو کوڈوگنو نے کہا کہ یہ پالیسیاں اور اصلاحات سے متعلق اٹلی کی صلاحیت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے ۔










