وادی کے طول ارض میںآوارہ کتے وبال جان بن گئے ہے سحری اور افطار کے وقت مسجدوں میں بزرگ جوان نماز ادا کرنے سے ڈر رہے ہیں سڑکوں پر آوارہ کتوں نے اپناڈھیرہ جمایاہے ،جبکہ بچے دن میں بھی اپنے گھروں سے باہرنکلنے میں خطرہ محسوس کررہے ہیں ۔صوبائی انتظامیہ وادی کے لوگوں کو اس مصیبت سے نجات دلانے میںمسلسل ناکام ثابت ہو گئی ہے۔وادی کے اطراف واکناف میں آوارہ کتوں کی تعداد میںاس قدر اضافہ ہواہے اور ان کی کارروائیوں میں دن بدن اضافہ ہواہے جسکے نتیجے میں لوگ مسلسل سرکار سے مطالبہ کررہے ہے کہ انہیں اس مصیبت سے نجات دلانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائے اورصوبائی انتظامیہ نے آنکھوں پرپٹی اور کانوں میں روئی ٹھونس دی ہے جس کے نتیجے میں یہ آوارہ کتے اب لوگوں کیلئے وبال جان کی صورت اختیا رکرگئے ہے۔ سحری اور افطار کے دوران یہ آوارہ کتے گھروں سے مسجدوں کارُخ کرنے والے لوگوں کاپیچھاکر کے انہیںکاٹنے دوڑتے ہے دن میں یہ اسکول جانے والے بچوںکوگھروں سے باہر نہیں آتے دیتے اور اگر سال 2021کاجائزہ لیا جائے تو چھ ہزار نو سو بہتر افراد کو آوارہ کتوں نے کاٹ کھایااور اس مد ت کے دوران تین کمسن بچوں کی بھی ان آوارہ کتوںنے چیر پھاڑ کرکے ان کی زندگیاں ختم کردی ہے۔آوارہ کتوںکوقا بوکرنے کیلئے سرکار جیسے کچھ سنتی نہیں ہے اور یہ آج کاہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔بمنہ میں ایک شخص کواس لئے جیل گرفتار کرلیاگیا کہ اس نے بارہ بور رائفل سے آوارہ کتے کونشانہ بنایاتھااورہ کتنے نے اسکے بھائی کوکاٹ لیاتھاکاٹنے والے کے علاج کیلئے سرکار سنجیدہ نہیں کہ ویکسن انجکشن ان کے پاس دستیاب ہے یانہیں ا سکی انہیں فکر نہیں ا سکی سرکار کوفکرنہیں مگرآوارہ کتے کوجواب لوگوں کے لئے وبال جان بنتے جارہے ہے ان میں سے ایک کتے کوجب گول کانشانہ بنایاگیاایک دم پولیس متحرک ہوئی اور آوارہ کتے کونشانہ بنانے واے شخص کی گرفتاری عمل میں لائی اگر دوسری جانب آوارہ کتے لوگوں کوکوٹے انہیں زندگیوں سے محروم کرے انہیں مسجدوں مندروں گردواروں تک بھی جانے نہ دے یہ سرکا رکے لئے کوئی فکرکی بات نہیں ہے ۔کئی برسوں سے سرکار اس معاملے پرخاموشی تاری ہوئے ہے اب پانی سر سے اوپر ہوچکاہے اور عوامی حلقے مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں ا س مصیبت سے نجات دلائی جائیں ۔










