آوارہ کتوں کی بے ہنگم بڑھتی تعداد سے شہروگام کی آبادی پریشان

آوارہ کتوں کی بے ہنگم بڑھتی تعداد سے شہروگام کی آبادی پریشان

وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی تعداد انسانی آبادی کے یکساں ہونے کو ہے اور ہر نکڑ، ہر گلی ، ہر کوچے میں درجنوں درجنوں آوارہ کتوں کے جھڑوں کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر آنے میں ڈر و خوف محسوس ہورہا ہے جبکہ آج تک درجنوں افراد کتوں کے حملوں میں ازجان ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں نے کہا کہ یہاں اب انسانی کی جانوں سے زیادہ آوارہ جانوروں کی جانوں کی قیمت سمجھی جاتی ہے۔وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی تعداد آئے روز بڑھ جانے کے نتیجے میں وادی کے ہر گلی اور ہر نکڑ پر آوارہ کتوں کے جھنڈ کے جھنڈ دکھائی دے رہے ہیں۔ جبکہ ہر علاقے میں رہائشی مکانوں کے کھڑکیوں اور دروازوں کے باہر دو دو تین تین آوارہ کتے پہرے پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اب اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد انسانی آبادی کے یکساں جلد ہی ہوگی۔ اس صورتحال پر تشویشناک اور انسانیت کیلئے خطرناک قراردیتے ہوئے عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں اب یہاں انسانوں سے زیادہ قدرومنزلت کی نظروں سے دکھائی دے رہے ہیں کیوں کہ اگر کوئی شخص آوارہ کتے کو مارے گا تو اس کو جھیل بیج دیا جائے گا جبکہ اس کے خلاف جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا تاہم جب آوارہ کتوں کے حملوں میں جب کوئی انسان اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے تو اس پر انتظامیہ خاموشی اختیار کررہی ہے۔ آوارہ کتوں کو اگرچہ قانونی تحفظ فراہم ہے لیکن انسانوں کیلئے کوئی تحفظ نہیں ہے۔ عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے آوارہ کتوں کو مارنے پر پابند عائد کی گئی ہے لیکن آوارہ کتوں کے حملوں سے لوگوں کو بچانے کیلئے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہے۔ آوارہ کتوں کے حملوں میں مارے گئے افراد کی موت کے ذمہ دار کون ہیں۔ عوامی حلقوں نے کہا کہ آوارہ کتوں کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ وہ ایسے کنبوں اور ایسے افراد کی بازآباد کاری کیلئے بھی اقدامات اْٹھائیں جو آوارہ کتوں کی درندگی کے شکار ہورہے ہیں۔ ادھر وادی میں میونسپلٹی آوارہ کتوں کو ایک جگہ رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔