آنے والا وقت1991کے معاشی ومالی بحران سے زیادہ سخت ہوگا:منموہن سنگھ

سری نگر//سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے خبردارکیا ہے کہ آنے والا وقت1991کے معاشی ومالی بحران سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ تین دہائی قبل ملک کے سامنے جو معاشی بحران تھا، اسی کے سبب شروع ہوئے لبرلائزیشن کے عمل کے بعد ملک نے قابل افتخار معاشی ترقی حاصل کی، لیکن آنے والے وقت، زیادہ سخت ہے، لہٰذا یہ وقت خوشی اور جشن کا نہیں، بلکہ سامنے کھڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے خود احتسابی کا ہے۔کشمیر نیوز سروس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ڈاکٹرمن موہن سنگھ نے ملک میں 3 دہائی قبل شروع کئے گئے معاشی اصلاحات کے 30 سال مکمل ہونے کی ماقبل شام جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ30 سال پہلے 1991 میں کانگریس پارٹی کی قیادت میں ملک نے معیشت میں اصلاحات کی اہم شروعات کرکے نئی معاشی پالیسی شروع کی۔ اس کے بعد کی حکومتوں نے مسلسل ملک کو 3کھرب ڈالر کی معیشت کی طرف لے جانے کے لئے جو راہ تیار کی گئی تھی‘ اس پر مسلسل پیش رفت کی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ مسلسل آگے بڑھنے والی ہماری معیشت کو کووڈ19 وبا نے تباہ کیا ہے اور اس سے ہمارے ملک کے کروڑوں باشندوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔ اس کے سبب ملک، صحت اور تعلیم کے شعبے میں پچھڑ گیا ہے اور لاتعداد افراد کے سامنے روزی-روٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان معاشی اصلاحات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس دوران ملک کے تقریباً30 کروڑ افراد کو غریبی سے باہر نکالنے کا موقع ملا اور کروڑوں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ دنیا کی کئی اہم کمپنیوں نے ہندوستان کا رخ کیا، جس کے سبب ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر رفتار ملی اور ملک کئی شعبوں میں عالمی طاقت طور پر ابھر کر سامنے آیا۔