آر ایس ایس کے آل انڈیا ایگزیکٹو بورڈ کاجائزہ اجلاس

تعلیمی نصاب میں تاریخ کے مضمون میں تبدیلی کی قرارداد

سری نگر//ہندئو شدت پسند تنظیم راشٹریہ سوئم سویک سنگھ (آر ایس ایس) کے آل انڈیا ایگزیکٹو بورڈ کی3 روزہ ورکنگ میٹنگ کرناٹک کے دھرواڑ میں جمعرات سے ہفتہ 30 اکتوبر تک ہورہی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق آر ایس ایس کی اس میٹنگ میں بی جے پی سمیت اس کی تمام وابستہ تنظیمیں حصہ لیں گی۔ اس میٹنگ میں گزشتہ سال دی گئی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے ساتھ نئی ذمہ داریوں پر گفتگو کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں بی جے پی کو سنگھ کے نقطہ نظر سے اہم اور بڑا ٹاسک ملنے والا ہے، جسے پورا کرنا اس کیلئے آسان نہیں ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق راشٹریہ سوئم سویک سنگھ کے ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں تمام مسائل کے ساتھ اس بار نئی تعلیمی پالیسی اور ہندوتوا ایجنڈا سرفہرست ہے۔ مرکز کی مودی حکومت کے لیے ان دونوں ایجنڈوں کو پورا کرنا چیلنج ہوگا۔ یونین ایگزیکٹو بورڈ میں نئی تعلیمی پالیسی اور ہندوتوا پر خصوصی قرارداد پاس کرے گی جس کو پورا کرنے کی ذمہ داری مودی حکومت اور بی جے پی پر ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی تعلیمی پالیسی کے تحت یونین انگریزی تعلیم کو ختم کرنے کے حق میں ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے کہ بچوں کو ان کی اپنی مادری زبان میں اعلی تعلیم دی جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں مودی حکومت کے وزرا ء کے ساتھ دہلی میں دو دور کی میٹنگیں ہو چکی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کرناٹک میں جاری اس میٹنگ میں سی بی ایس ای، این سی ای آر ٹی، این بی ٹی جیسی تنظیموں کے سینئر عہدیداروں کو بھی بلایا گیا تھا۔ آر ایس ایس ملک کی تاریخ کے نصاب میں بھی تبدیلی چاہتی ہے، کیونکہ سنگھ کا ماننا ہے کہ اب تک جو تاریخ پڑھائی گئی ہے وہ نامکمل ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ ہندوستان میں غلامی کے زمانے کا حوالہ دیتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ میں اس مسئلہ پر قرارداد پاس کر کے مرکز پر دباو ڈالا جائے گا۔اس کے علاوہ ہندوتوا کے مسائل، جیسے بگڑتا ہوا آبادی کا توازن اور مندروں کی سرکاری تسلط سے آزادی، پر قراردادیں پاس کی جائیں گی۔ خیال رہے آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی حال ہی میں دسہرہ تہوار پر اپنے خطاب میں ان تمام مسائل پر بات کی تھی۔ یہ تمام مسائل ایسے ہیں جن پر اپوزیشن نے پہلے ہی بی جے پی کو گھیر رکھا ہے اور جب بھی حکومت ان مسائل پر آگے بڑھے گی تو اس کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔