آبگاہوں کی شان رفتہ بحال کرنے کیلئے47کروڑ روپے مالیت کا’مربوط انتظامی عملی منصوبہ‘ تیا ر

آبگاہوں کی شان رفتہ بحال کرنے کیلئے47کروڑ روپے مالیت کا’مربوط انتظامی عملی منصوبہ‘ تیا ر

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے وادی میںآبگاہوں کی قدیم شان بحال کرنے کیلئے ایکIntegrated management action planیعنی ’مربوط انتظامی عملی منصوبہ ‘ تیا ر کیا ہے۔معلوم ہواکہ46.70کروڑ روپے مالیت کایہ مجموعی بجٹ یاعملی منصوبہ پانچ برسوں یعنی 2022سے2027تک مکمل ہوگا۔جے کے این ایس کے مطابق ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق آبگاہوںکی ہیت بحال کرنے سے متعلق مربوط انتظامی عملی منصوبے کی دستاویز کے مطابق18.93 کروڑ روپے پانی کے انتظام پر خرچ کیے جائیں گے ، جو آبگاہوںکی بحالی کے لئے اہم ہے۔ اسی طرح ، 13.15کروڑ روپے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر خرچ کئے جائیں گے۔مذکورہ منصوبے کے مطابق تعلیمی آگاہی اور ماحولیاتی سیاحت کے لئے 7.49 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، اس کے علاوہ پائیدار وسائل کی ترقی اور معاش کی ترقی کیلئے0.80 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ 6.33 کروڑ روپے ادارہ جاتی ترقی پر خرچ کئے جائیں گے۔کشمیروادی میں واقع 8آبگاہوںکیلئے16.13 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ جن میں سے ہوکرسر ویٹ لینڈاور ہائیگام ویٹ لینڈپر9.454 کروڑ روپے ، شال بگ ویٹ لینڈ پر12.80 کروڑ روپے، میر گنڈ ویٹ لینڈ پر2.03 کروڑ روپے، چھتلم آبگاہ پر 2.768کروڑ روپے۔ فرش کوری آبگاہ پر1.36 کروڑ روپے۔ کرانچوویٹ لینڈ پر 1.215 کروڑ روپے اور منی بگ آبگاہ پر 0.942 کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔ایکشن پلان کے مطابق ، آبگاہوں کا سب سے عمومی مسئلہ گندگی ہے ، جس سے پانی کے ذخائر کا حجم کم ہو گیا ہے۔مربوط انتظامی عملی منصوبہ میں بتایاگیا ہے کہ گندگی کے اس بڑے پیمانے پر بہاؤ کے منفی اثرات آبگاہوں میں پانی کے پھیلاؤ میں بتدریج کمی اور میکرو فائیٹک کمیونٹی میں تبدیلی کاباعث بن جاتاہے۔ایکشن پلان نے آبگاہوں میں گھاس پھوس کے پھیلاؤ کو بھی اجاگر کیا کیونکہ پرمختلف اقسام کے گھاس پھوس کا تناسب جس میں ہائیڈریلا ، ایزولا ، سپیروڈیلا ، سالوینیا ، لیمنا ، باربیریا وولگرس ، سیراتوفیلم ، ناسٹوریم ، ٹائفا ، بٹومس امبیلیٹس ، سائپرس ایس پی اور پوٹا میگٹن شامل ہیں،نے آبگاہوں کی ہیت تبدیل کی ہے اوراس صورتحال پرقابو پانا ناگزیربن گیاہے۔ایکشن پلان میں یہ بات بھی درج ہے کہ گھاس پھوس کے مختلف اقسام نے آبگاہوں کیلئے بہت بڑا خطرہ لاحق کیا ہے۔ اس طرح کی 12 پودوں کی موجودگی گند اور غذائی اجزاء کی افزودگی کا نتیجہ ہے۔ایکشن پلان کے ذریعے شناخت کئیجانے والے دیگر عام خطرات میں آلودگی ، رہائش گاہ میں تبدیلی ، اور پانی کے معیار میں کمی ، ٹھوس فضلہ جمع کرنا اور بڑے پیمانے پر تجاوزات شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ، نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے گزشتہ ماہ جھیلوں کی حالت پر سخت نوٹ لیا تھا، خاص طور پر وُلر جھیل کے ارد گرد فضلہ کے غیر سائنسی ڈمپنگ اور تجاوزات اور مقامی حکومت سے ایک ماہ کے اندر ہر آبگاہ کے تحفظ کی خاطر مقررہ وقت میں مزید کارروائی کیلئے ایکشن پلان مانگا ہے ۔ نیشنل گرین ٹریبونل کی ہدایات کے جواب میں ، کشمیرکی ڈویڑنل انتظامیہ نے حکم دیا تھا کہ زیر کاشت زمین کے معاملے پر کارروائی کی جائے تاکہ مذکورہ ٹریبونل کی ہدایات کے مطابق 15 دن کے اندر کارروائی کی جا سکے۔