آبشاروں کی سرزمین میں ہر سو پانی کی عدم دستیابی سے شہر ودیہات میں ہاہا کار

آبشاروں کی سرزمین میں ہر سو پانی کی عدم دستیابی سے شہر ودیہات میں ہاہا کار

سرینگر / /وادی کشمیر دریائوں ،آبشاروں اور جھیلوں وندی نالوں کی سرزمین ہے اور اس خطے میں ایسے آبی ذخائر موجود ہیں جو سخت خشک موسم کے باوجود بھی تر اور ان میں پانی کا بہائو برقرار رہتا ہے ۔لیکن پانی کی اس بہتات کے باوجود بھی اس خط میں پانی کی عدم دستیابی سے ہاہاکار مچی ہے لوگ پانی کے ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں۔جبکہ آجکل کھیتی باڑی کا سیزن عروج پرہے اور لوگوں کو زمینوں کی سینچائی کیلئے پانی میسر نہیں ہے حالانکہ لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے یہاں صدیوں سے واٹر سپلائی اسکیم شہر ودیہات میں قائم ہے لیکن بیشتر علاقوں میں ہر روز یہ شکایات رہتی ہیں کہ وہ پانی کیلئے ترس رہے ہیں اورلوگ محکمہ پی ایچ ای کیخلاف سراپا احتجاج ہوتے ہیں ۔جبکہ سینچائی کیلئے سرکار نے ایک اسکیم کے تحت واٹر پمپ شیڈ نصب کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا تھااور بہت سے علاقوں میں اسکیم کو بروئے کار لاکر پمپ شیڈ بھی تعمیر کئے گئے اور کئی برسوں تک وہ کامیاب بھی رہے تاہم محکمہ اری گیشن اینڈ فلڈکنٹرول کی عدم توجہی سے وہ نصب شدہ پمپ شیڈ بے کار پڑ گئے اور محکمہ ہذا زمینداروں کو زمینوں کی سینچائی کیلئے پانی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے زمینداروں نے بتایا کہ وہ پانی کی عدم دستیابی کولیکرندی نالوں کا گندہ پانی پینے پر مجبور ہورہے ہیں جس سے وبائی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دو دہائی قبل یہاں کے لوگ ندی ونالوں کے بہتے پانی کو ہی استعمال میںلایا کرتے تھے اور لوگ اتنے حساس تھے کہ آب رواں یا چشموں وجھیلوں میں کوڈا کرکٹ وغلاظت ڈالنے میں احتیاط سے کام لیتے تھے اور اس کو گناہ عظیم سمجھا جاتا تھا لیکن اب نام نہاد ترقی یافتہ دور میں لوگوں نے دریائوں اور ندی نالوں کے کناروں پر بیت الخلاء تعمیر کرنے کا بھیڑا اٹھایا جبکہ سرکاری سطح پر بھی اس کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کے نتیجے میں ہمارے دریااور ندی نالے کوڈا دان میں تبدیل ہوئے ہیں اور ان کا پانی ہمارے لئے حرام بھی بن چکا ہے اوراس کے استعمال سے مہلک بیماریاں اپنا جال بچھا رہی ہیں۔لوگوں نے اس عظیم نعمت کی بے قدری کی جس کا خمیازہ ہمیں اٹھانا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کھیتی باڑی کا سیزن عروج پر ہونے کے باوجود بھی زمینوں کی سینچائی پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں ہو پارہی ہے جبکہ پانی کی بہتات اور ذخائر موجود ہیں لیکن سسٹم کی خرابی کے باعث تمام سہولیات ماند پڑی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پانی کے سالانہ فیس میں ہر سال اضافہ کیا جارہا ہے جس سے لوگ ورطہ حیرت میں پڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک طرف لوگ نامساعد حالات اور کوروناوائر س کی وجہ سے مالی ابتری کے شکار ہوئے ہیں تو دوسری طرف محکمہ جھل شکتی اور اری گیشن وفلڈ کنٹرول نے کوئی پاس ولحاظ کئے بغیر پانی کے فیس میں غیر معمولی اضافہ کرکے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ بیشتر صارفین ایسے ہیں جو اتنی رقم ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیںکیونکہ اس وقت وہ اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پینے وزمینوں کی سینچائی کیلئے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ عام لوگوں اور زمینداروں کے مشکلات کازالہ ہوسکے ۔