حسن ساہوؔ
انسان کیا ہے؟گوشت پوست کا لوتھڑا۔ایک دو پائوں والا حیوان ناطق یعنی بولنے والا حیوان۔اس آدمی یا انسان کی حقیقت پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہے۔اس کے بعد بھی ابن آدم خودسری و خود پرستی کی راہ پر گامزان ہے اور اس زمین پر فتنہ فسادبرپا کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔
اس اصلیت کو بھی یہ انسان فراموش کرجاتا ہے کہ اس دار فانی میں کچھ لمحوں قبل جو کچھ سچائی ہوتی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے کہانی یا افسانے کا روپ دھار لیتی ہے۔یعنی جیتی جاگتی ہستیاں نسیت ونا بود ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اندازہ لگائیے کہ مسرتوں وراحتوں سے لبریز زندگی ،ہنستے ،کھلتے اور مسکراتے ہوئے لوگ ،بیشمار خوبصورت ارمانوں و امیدوں سے بھرے ہوئے دل اور حد سے زیادہ جینے کی خواہیش رکھنے والے زندہ جاوید دماغ آن واحد میں منوں مٹی کے نیچے دب جاتے ہیں۔غرض وقت پورا ہوجانے پر لاتعداد انسانی ڈھانچےزمین کے اندر دھنس جاتے ہیں۔
ویسے ا یک دیانت دار محاسب کی طرح اپنے آس پاس کا جائزہ لیا جائے تو یہ اصلیت سامنے آجائے گی کہ اس عارضی دُنیا کی حالت ایک سرائے یا مسافرخانے کی سی ہے۔جس میں ہرذی حس مقررہ مدت گزارنے کے بعد اپنی دائمی منزل کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔یا یوں سمجھ لیاجائے کہ اس دُنیاکی حیثیت ایک ڈرامہ اسٹیج سے زیادہ نہیںاور ہر ایک کو اپناپارٹ بُرے یا بھلے انداز میں ادا کرکے اُخروی زیست کی جانب سفر کرنا ہے۔ گویا یہ بات طے ہے کہ جو کوئی اس سرائے نمادنیامیں آتا ہے اسے آج نہیں تو کل واپس جانا ہے۔کسی ذی حس کو دوام حاصل نہیں۔
یعنی موت یا اجل سے کسی کو کسی طرح کی چھوٹ نہیں۔چاہے انسان کتنا ہی توانگر،توانایاممتاز ہو،اسے دارِ بقا کی جانب سفر کرنا ہے۔آخری منزل کی جانب ہر چھوٹے بڑے ،گورے کالے، امیر وغریب اور عالیشان بنگلے یا معمولی جھونپڑی میں قیام کرنے والے ہر فرد کو اجل کے فرشتے کا ایک نہ ایک روز سامنا کرنا پڑے گا گویا یہ عالیشیان سازوسامان یہ فلک بوس عمارتیں،یہ لمبی چوڑی جائیداد،یہ فیکٹریاں،یہ باغات،یہ کارخانے ،یہ قیمتی گاڑیاں،یہ سونے چاندی کے زیورات ،یہ طرح طرح کے ملبوسات اور یہ بینک بیلینس سب کچھ اس دارفانی میں چھوڑ کر خالی ہاتھ جانا پڑے گا۔البتہ اس اُحروی زندگی کے سفر میں آگر کچھ ساتھ جائے گا کچھ کپڑا بطور کفن اور تقویٰ۔ویسے داناوٗں کا کہناہے۔کہ اس عارضی دنیا میں ہر فرد کے تین قریبی ساتھی یاہمدرد ہوا کرتے ہیں:(۱) مال،(۲) اولاد،(۳)عمل۔
مال سے پوچھنے پر کہ کب تک ساتھ دوگے جواب ملتا ہے۔کہ وقت نزع یعنی روح قفس عنصری سے پرواز کرنے پر میرا ساتھ سداکے لیے چھوٹ جائے گا ۔اسی طرح کا سوال اولاد سے کرنے پر جواب ملا کہ ہم تو دائمی نیند سوجانے کے بعد کفن ودفن کا بندوبست کریں گے۔یعنی آپ کو سپردخاک کرنے پرہماراساتھ چھوٹ جائے گا ۔البتہ دُنیاداری نبھانے کی خاطر فاتحہ خوانی کی رسم پوری کریں گے۔گویا جن دوساتھیوں کو اس دُنیا میں بال وپر پھیلانے کے لیے انسان سب کچھ دائوپر لگالیتا ہے وہی وقت آخر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔اس کے برعکس ایک عمل ہی ہے جو بر ملا کہے گا کہ وہ اس ناپائیدار دُنیا سے سدا کے لئے کوچ کرنے کے بعد بھی اس کا ساتھ دے گا،مگر اس کے لئے شرط یہ ٹھہری کہ اس دارفانی میں عمل صالح یا نیک کام بجا لانے میںبخل سے کام نہ لو گے۔
افسوس کے ساتھ ضبط تحریر میں لانا پڑ رہا ہے کہ اس دُنیا کے فنا ہونے والے لوازمات سے ہم کنار یہ آدمی دُنیا داری کے جھمیلوں میں پھنس کے رہ جاتا ہے۔ یعنی مال واولاد کی خاطر جھوٹ اور کپٹ سے کام لینا اپنا ایمان جانتا ہے۔اُخروی زیست کے حقیقی ہمدرد یعنی عمل کی جانب بہت کم دھیان دیتا ہے۔ایک دانش ور نے خوب کہا ہے:
آج عمل ہے حساب نہیں کل حساب ہے عمل نہیں
یعنی عمل کرنے کے وقت اس دُنیا میں مرتے دم تک ہے۔دائمی نیند سوجانے کے بعد عمل کرنے کا سلسلہ ختم ہوتا ہے۔نیک عمل کا صلہ ہرذی حسکواطمینان بخش طور پر اُخروی زیست میں حاصل ہوتا ہے۔انیس ؔمرحوم نے کیا خوب رباعی کہی ہے:
کیا کیانہ دُنیا سے صاحب مال گئے دولت نہ گئی ساتھ نہ اطفال گئے
پہنچاکے لحدتک پھر آئے سب لوگ ہمراہ گرگئے تو اعمال گئے
اُف موت اور زندگی کے درمیان داراصل کتنا کم فاصلہ ہے کہ یہ سمجھنے کی مہلت ہی نہیں ملتی کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور کیوں ہورہا ہے۔یہ بھی نہیں جان پاتے کہ زندگی کی رعنائیوںکے عقب میں اس عتاب وبربادی کا سبب کیا ہے۔حق کی بات یہ ٹھہری کہ اس کردگار یا فاعل حقیقی کے فیصلے ایسے ہی ہوا کرتے ہیںکہ جن کا نہ ہی کسی بشر کو علم ہوا کرتا ہے اور نہ ہی کچھ پتہ چل سکتا ہے۔
البتہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ بدحالی و خوشحالی سے لبریز حالات پیدا کرنے کے ذمہ دار انسانوں کے عمال ہوا کرتے ہیں۔ہرذی حس کے اعمال۔ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے حالات سے سبق حاصل کیا جاسکتاہے لیکن دنیاوی آسائشوں و رنگینوں میں فقط دوپائوںوالا حیوان ناطق برابر گمراہی و تغافلی کا ہدف بنا ہوا ہے۔یہ بھی سچ ہےکہ کچھ بد کرداروں کی بداعمالیوں کے باعث اطراف واکناف میں قیام پذیر صالح صفت افراد کو بھی عتاب وزیاں کا شکار بنناپڑتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ موت کا جام نوش کرنےپرعمل کرنے کادروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگا اور اس دنیا سے کوچ کرنے کے بعد بھی فقط اعمال کو پرکھا جائے گا۔ اس کے بعد بھی آدمی گمراہی وضلالت کا ہدف بنے نیلے آسمان کے نیچے ہر طرح سےعارضی دُنیا کے مسکن کو سوارنے اور سجانے کی لگن میں ہر طرح کی زیادتی سے کام لیتا ہے۔
خدا ئے برحق نے ابن آدم کو زمین پر مساوات،اپنائیت،رواداری اور مہر و محبت کو فروغ دینے کی غرض سے پیدا کیا تھا۔اسے اشرف المخلوقات کی خِلعت عطا کی تھی۔اور یہی انسان ابلیس کی تقلید کرکے دین داری اور راست کرداری کے بجائے دنیاداری کی راہ اپنائیںانسانیت،شرافت ،اور اخلاقیت کے اعلیٰاوصاف کا سودا کرنے لگا۔
اب موجودہ پر آشوب حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے کیوں نہ ہم سب دیانت دار محاسب کی حیثیت سے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔
اپنی کمزوریوں اور علِتوں کا سدباب کرنے کی بابت ٹھوس اقدام اُٹھائیں۔غفلت اور گمراہی سے کنار ا کئے اپنے فرائض کو سمجھ کر دل و جان سے اپنانے کی فکر کریں۔
خدائے برحق وبرترہم سب کو اپنا محاسبہ کرنے ،دُرست سوچنے اور اعمال صالح بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری دنیوی اور اخروی زندگی صحیح معنوں میں سنور سکے۔آمین










