تمام زیر اِلتوأ پی ڈی ایس اِستفادہ کنندگان اور اِی شرم رجسٹرکرنے والوں کو اِی ۔کے وائی سی کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے کہا گیا
سری نگر//محکمہ خوراک ، شہری رسدات اور اَمورِ صارفین( ایف سے ایس اینڈ سی اے)نے ایک سرکاری بیان میں اِی ۔شرم رجسٹرکرنے والوں سے درخواست کی ہے جو پی ڈی ایس میں رہ گئے ہیں اور راشن کارڈ اور شمولیت کے اجرأ کے لئے اپنے متعلقہ تحصیل سپلائی دفاتر یا اسسٹنٹ ڈائریکٹروں کے دفاتر سے رابطہ قائم کریں۔یہ سپریم کورٹ آف اِنڈیا کے احکامات کے مطابق ہے جس میں اِی۔شرم رجسٹرکرنے والوں کو شامل اور راشن کارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو فی الحال راشن کارڈ کے بغیر ہیں، لیکن پی ڈی ایس کے تحت اناج لینے کے اہل ہیں۔محکمہ نے جموں و کشمیر کے تمام اِی ۔شرم پورٹل رجسٹرکرنے والوں کو اہلیت کے مطابق پی ڈی ایس کے تحت راشن کارڈ اور شمولیت فراہم کرنے کے اَپنے عزم کے تحت جموں و کشمیر کے تمام اَضلاع میں متعلقہ تحصیل سپلائی دفاتر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹروں کے دفاتر میں 2 ، 3 ؍فروری اور 23، 24؍ جون 2024 ء کو منعقدہ کیمپوں سمیت خصوصی مہم بھی چلائی ہے۔محکمہ ایسے رجسٹراروںسے بھی رابطہ کر رہا ہے جن کے معاملے میں اِی ۔شرم رجسٹریشن متعلقہ اعداد و شمار سے ملاپ کرنے کے بعد پی ڈی ایس ڈیٹا بیس میں شمولیت کو ثابت نہیں کرسکا۔ اَپنی کوششوں میں محکمہ اَب تک صوبہ کشمیر میں ایسے 20,656 رجسٹراروں تک پہنچ چکا ہے۔ اِن میں سے 18,136پہلے سے ہی راشن کارڈ میں رجسٹرڈ پائے گئے اور 25,55 رجسٹراروں کے پاس راشن کارڈ نہیں پائے گئے۔ 25,55رجسٹرکرنے والوں میں سے 1,876 کو ان کے کنبوں کے موجودہ راشن کارڈ میں شامل کیا گیا ہے اور 154کو نئے راشن کارڈ فراہم کئے گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ باقی رجسٹرکرنے والوں کے لئے یا تو آدھار کی تفصیلات میں تضاد تھا یا وہ مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔صوبہ جموںکے معاملے میں محکمہ کی جانب سے اَب تک 47,297 ایسے رجسٹراروں سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 39,213پہلے سے ہی راشن کارڈ میں رجسٹرڈ پائے گئے اور 8,084 رجسٹراروںکے پاس راشن کارڈ نہیں تھے۔ 8,084 رجسٹرکرنے والوں میں سے 6,671 کو ان کے کنبوں کے موجودہ راشن کارڈ میں شامل کیا گیا ہے اور 665 کو نئے راشن کارڈ فراہم کئے گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ رجسٹر کرنے والوں کو یا تو آدھار کی تفصیلات میں تضاد تھا یا وہ مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق محکمہ ان رجسٹرکرنے والوں سے بھی رابطہ کر رہا ہے جن کے معاملات میں ان کے دیئے گئے فون نمبروں پر عدم مماثلت سامنے آئی ہے ۔تاہم بہت سے معاملوں میں رابطہ نمبر یا تو دستیاب نہیں پائے گئے یا غیر اِستعمال شدہ پائے گئے یا مختلف اَفراد سے تعلق رکھتے ہیں۔محکمہ نے اَب ایک بار پھر ایسے تمام اِی۔ شرم رجسٹرکرنے والوں سے درخواست کی ہے جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے یا وہ گھریلو راشن کارڈ میں شامل نہیں ہیں، وہ آدھار کارڈ، ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ، اِنکم پروف اور اِی۔ شرم کارڈ سمیت مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ قریبی تحصیل سپلائی آفس یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے دفتر سے رابطہ کریں تاکہ اہلیت کے مطابق راشن کارڈ جاری کرنے یا اُن کے کنبے کے راشن کارڈ میں شامل کرنے پر غور کیا جا سکے۔ اِس کے علاوہ محکمہ نے اُن تمام پی ڈِی ایس مستفیدین اور اِی۔ شرم رجسٹرکرنے والوں سے بھی کہا ہے جو پی ڈِی ایس سے فائدہ اُٹھانے والے بھی ہیں اور جنہوں نے ابھی تک محکمہ خوراک ، شہری رسدات اور اَمورِ صارفین کے ساتھ اَپنا اِی۔ کے وائی سی مکمل نہیں کیا ہے۔ وہ اِس اِی ۔کے وائی سی عمل کو جلد از جلد مکمل کریں تاکہ مستقبل میں اُنہیں کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور پی ڈِی ایس ڈیٹا بیس میں ان کے اعداد و شمار کی تفصیلات میں کسی بھی تضاد کو دور کیا جاسکے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اِی ۔کے وائی سی کے اِس عمل کو فوری طور پر مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔محکمہ کے مطابق این ایف ایس اے کے تحت تقریباً 83 فیصد اور غیر ترجیحی گھریلو گروپ میں 65 فیصد لوگوں نے اَب تک اَپنا اِی ۔کے وائی سی مکمل کیا ہے۔ بقیہ مستفید کنندگان سے کہا گیا ہے کہ وہ اَپنے قریبی ایف پی ایس یا سرکاری سیل سینٹر میں فوری طور پر اَپنا اِی ۔کے وائی سی مکمل کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی تکلیف سے بچا جاسکے۔اِس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ڈِی ایس سے مستفید ہونے والے جو فی الحال جموں و کشمیر سے باہر ہیں وہ بھی اَپنے اِی۔ کے وائی سی کو ملک کے کسی بھی جگہ سے قریب ترین ایف پی ایس پر مکمل کر سکتے ہیں کیوں کہ یہ خصوصیت بھی اَب سسٹم میں فعال کی گئی ہے۔










