اُمتِ مسلمہ کے تمام مسائل کا حل حضورﷺ کی سیرت طیبہ میں موجود ہے

قیصر محمود عراقی

اس وقت امتِ مسلمہ بے پناہ معاشی ، معاشرتی ، سیاسی اور اخلاقی مسائل میں گھری ہو ئی ہے ، شدید دبائو اور پریشانیوں میں مبتلا ہے ، طرح طرح کیمسائل مسلمانوںکے گرد گھرائو ڈالا ہوا ہے ۔ آئے دن نئے مسئلہ اور نئے سے نیا الزام امتِ مسلمہ کے ماتھے پر لگا دیا جا تا ہے ۔ پہلے ہمیں ’’ دقیانوس‘‘ اور ’’ دہشت گرد ‘‘ کا طعنہ دیا جا تا رہا اور اب پوری دنیا میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور قصور وار بھی ہمیں ہی ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ ہم خود ہی اندازہ لگائیں کہ آج ہماری صورتِ حال کیا ہے، ہمیں چاروں طرف سے مار پڑ رہی ہے ، آج اگر عراق جل رہا ہے تو کیا اس کے لئے وہاں امریکہ آکر بیٹھا ہوا ہے ؟ نہیں آپ وہاں جا کر دیکھیں شیعہ اور سنّی ایک دوسرے کو مار رہے ہیں ، یہی حال افغانستان کے اندر ہے اور یہی حال ہمارے ملک ہندوستان کے اندر رہنے والے مسلمانوں میں بھی ہے کہ مسلکی علمائوں نے زبانی جنگ چھیڑ رکھی ہے ، مسلک کے نام پر امت کو آپس میں لڑوا رہے ہیں اور ان سب کی بنیادی وجہہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہو ئے راستے سے بھٹک چکے ہیں ، رب کے ساتھ ان کا تعلق کمزور ہو چکا ہے ۔
جب سے مسلمانوں نے حضور اکر م ﷺ کی ذات اقدس کے کردار کو چھوڑا ہے اس وقت سے مسلمان ذلت و رسوائی کی طرف جا رہے ہیں ۔ اگر پہلے ادوار میں مسلمانوں کو کامیابیاں و کامرانیاں ملی تھیں تو یہ میرا ایمان ہے کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کی سنتوں کو زندہ کیا جس کے بدلے انہیں اتنا عروج حاصل ہوا ۔ آج اگر پوری دنیا میں مسلمان ذلت و رسوائی اور پستی کی طرف جا رہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جس عظیم شخصیت کو ہمارے لئے آئیڈئل بنا کر بھیجا ہے ہم اس کے بتائے ہو ئے راستے کو چھوڑ رکھا ہے ۔ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے سوا لاکھ قدوسیوں کو ایک عالمی نظام دیا ، یہ سوا لاکھ وہ قدوسی تھے جن کے مقدر پر جبرئیل امین بھی رشک کر تے تھے ، یہ وہ خوش نصیب تھے جو اپنی آنکھوں سے آقاانعام دار ﷺ کے چہرے کی زیارت کر تے تھے اور اپنی کانوں سے آپ ﷺ کی زبان سے اللہ کا قرآن سے سنتے تھے ۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ اکثر مسلم حکمران آپ ﷺ کے دیئے ہو ئے عالمی نظام سے نظر پھیر کر بین الا قوامی ایجنڈے کی طرف نگاہ اٹھائے ہو ئے ہیں ، یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے مسائل اقوام متحدہ میں حل نہیں ہو نگے ، سلامتی کونسل مسلمانوں کے لئے بر بادی کونسل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
آج مسلمان دیگر اقوام کے مقابلے پیچھے رہ گئے ہیں ، ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئے ہیں یا کسی اور میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں تو اس کا ذمہ دار ہمارا دین تو نہیں یہ تو ہماری اپنی کمزوری ہے ۔ حضور اکرم ﷺ پر جو پہلی وحی نازل ہو ئی تھی اس میں تعلیم پر زور دیا گیا تھا ، اس کے باوجود اگر ہم تعلیمی میدان پیچھے رہ گئے ہیں تو اس کا ذمہ دار دین نہیں بلکہ ہم خود ہیں ، ہمارا دین تو ہمیں درس دیتا ہے کہ تم اپنے آپ کو تیار رکھو ، اس کے باوجود ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور دشمن ہم پر مکھیوں کی طرح حملہ آور ہے ۔ آج ہم ایٹمی وقت ہو نے کے باوجود خود زدہ ہیں اس کی کیا وجہہ ہے ؟ اس کی اصل وجہہ یہ ہے کہ ہمارے اندر قوت ایمانی باقی نہیں رہی۔ اگر آج بھی مسلمان چاہتے ہیں کہ مسلمان سر بلند ہوں تو اس کا واحد راستہ یہی ہے کہ نبی کریم ,ﷺ کی سنت کی اتباع کریں ۔ کیونکہ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے ۔ آپ ﷺ امت کو حجتہ الوداع کے موقع پر جو آخری خطبہ دیا ، اس میں جہاں یہ سبق دیا کہ ’’ اس پاکیزہ مقدس جگہ پر میں ساری امت کو یہ پیغام دے کر جا رہا ہوں کہ ایک دوسرے کے مال ، جان ، عزت اور آبرو کی حفاظت کر نا‘‘ مگر افسوس آج اسی امت میں تیزی کے ساتھ اتحاد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے ، نفرتیں بڑھ رہی ہیں ، کوئی کسی کے ساتھ اتفاق و اتحاد کے لئے آمادہ نہیں ، یہ وہ مسائل ہیں جو صبح شام ہمارے سامنے ہیں ۔ آج کا مسلمان خود کو اہلِ سنت و الجماعت اور ٹنا ٹن سنی تو کہتا ہے مگر آپ ﷺ کی سنت سے کوسوں دور ہے ، ان کا ایک بھی عمل نبی پاک ﷺ کی سنتوں سے میل نہیں کھائی ، یہ تو ہر وہ کام کر تے ہیں جس سے ہمارے نبی پاک ﷺ نے منع فر مایا ہے ، یہ تو ہر وقت آپ ﷺ کی دل آزاری کر تے رہتے ہیں عملی طور پر مگر پھر بھی زبان پر سدا سنت بھرا نعرہ ہو تا ہے جو کہ ایک کھوکھلا نعرہ کے سوا اور کچھ نہیں ۔
میں سمجھتا ہو کہ جو مسائل آج امتِ مسلمہ کو در پیش ہیں ، ان کا حل سنت نبوی ﷺ میں موجود ہے ۔ آج ہم مسائل کا رونا رو رہے ہیں لیکن میرے نبی ﷺ نے تو زندگی بھر کے مسائل اشاروں میں حل کئے ہیں ۔ آج ہم جن مسائل کو لے کر بیٹھے ہو ئے ہیں اگر خلوص کے ساتھ ان کا حل چاہتے ہیں تو یہ مشکل نہیں ہے ، آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے ، جس سے ہم رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ، اس کے لئے ہمیں اپنا قبلہ درست کر نا ہو گا ، اپنے اندر اتحاد کی فضا قائم کر نا ہو گی ۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے فلاح کا راستہ دکھاتا ہے ، آج ہم جس بے شمار مسائل میں گھرے ہو ئے ہیں ان مسائل ،کو حضور اکر م ﷺ کے بتائے ہو ئے راستے پر چل کر حل کیا جا سکتا ہے، اگر ہمیں معاشی مسئلہ حل کر نا ہے تو حضور اکرم ﷺ کا ایک چھوٹا ارشاد ہے جس پر عمل کر نے سے یہ مسئلہ حل ہو جا ئے گا کہ ’’ جس کسی نے بھی چادر کے مطابق پائوں پھیلائے ، ناداری اس کے قریب نہیں آئے گی ‘‘ اس وقت مسلمان دنیا کے کل آبادی کا تیسرا حصہ ہے اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے عطا کر دہ بے شمار وسائل ہیں اس کے باوجود اگر ان کی حالت یہ ہو کہ اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے غیر مسلموں کا سہارہ لے تو یہ ملتِ اسلامیہ کی ذلت و رسوائی ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امت مسلمہ آج جن حالات سے دوچار ہے اس پر ہر مسلمان کا دل سوگوار ہے ، آج امت کو جو چیلینزز درپیش ہیں اور طاغوتی طاقتیں جس طرح مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو پیدا کر کے اپنے مقاصد حل کر نا چاہتی ہیں ، در اصل وہ اہلِ تشیع یا اہلِ سنت یا بریلوی ، دیو بندی اور اہل ِ حدیث کو ختم نہیں کر نا چاہتی ، در حقیقت وہ عالم اسلام کو ختم کر نا چاہتی ہیں ۔
اے قوم ِ مسلم ! آج بھی اگر ہم اپنے آپ کو جگانا چاہتے ہیں تو اللہ کی طرف تو جہ کر نا ہو گی ، اپنے درمیان پیدا ہو نے کدورتوں ، نفرتوں کو مٹانا ہو گا ۔ آپ خدا کے واسطے ذرہ اپنے حجرے سے نکل کر دیکھیں آج کسی بھی کلمہ پڑھنے والے کے بارے میں یہ نہیں دیکھا جا تا کہ یہ محمد عربی ﷺ کا امتی ہے بلکہ اس کو ٹٹولا جا تا ہے کہ اس کا تعلق کس مسلک سے ہے کیونکہ ہمارے قائدین اور علمائے دین نے ہمیں مسلکی خانے میں تقسیم کر دیا ہے ، یہی وجہہ ہے کہ آج ہمیں صدیق ؓ ، فاروق ؓ ، عثمان ؓ اور علی ؓ کی طرح عاشقِ رسول ﷺ کمانڈر نصیب نہیں ہے ، ہمارا قبلہ بدل گیا ہے ، جہتیں بدل گی اور ان جہتوںکے بدلنے سے ہمارے رویوں میں انقلاب آتا گیا اور ہم مسلمان طرح طرح کے مسائل میں گھر گئے ۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ جب بھی مسلتِ اسلامیہ کو حضور اکرم ﷺ سے ٹوٹ کر پیار کر نے والا ملا ان کے مسائل حل ہو گئے ۔ میرے نزدیک اگر آج بھی مسلمان آپ ﷺ کی باتوں پر عمل شروع کر دے تو دنیا کے ہر ظالموں کے ساتھ بڑی آسانی سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ آج ساری دنیا کے کافر اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر  مسلمانوں کے خلاف متحد ہو چکے ہیں ، وہ مل کر مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کر رہے ہیں ، ایسے میں ہمیں ان کی سازشوں سے بچتے ہو ئے آپس میں اتحاد قائم کر نا ہو گا اور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کر کے اپنے مسائل کا حل تلاش کر نا ہو گا اور وہ تمام تر مسائل کا حل حضور اکرم  ﷺ کی سیرت ِ طیبہ میں موجود ہے ۔ یاد رکھیں ! جس ام،ت پر نبی ﷺ رحمت ہو اس نبی ﷺ کے امتی فسادی نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

کریگ اسٹریٹ ، کمرہٹی ، کولکاتا ۔،۵۸
Mob: 6291697668