ُاُردو صحافت کے مسائل دوسری زبانوں کے مسائل سے بہت مختلف ہیں ـ یہ بھی حقیقت ہے کہ اُردو صحافت کے مسائل اُن مسائل سے زیادہ پیچیدہ ہیں جن سے عموماََ دوسرے زبانوں کی صحافت کا واسطہ رہتا ہے ـ ایک طرف وسائل کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف پڑھنے والوں کا ـ اخبار خرید کر پڑھنے والوں کی شدید قلت ہے ۔ ایسے میں سنجیدگی “متانت” معیار اور وقار کو برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے اُردو کے بیشتر اخبارات اور رسائل باوجود اچھے معیار کے انگریزی اور دوسری زبانوں کے اخبارات اور رسائل کا مقابلہ نہیں کر پاتے ۔ اُردو کے جو اخبارات اور رسائل تھوڑے بہت فروخت ہوتے ہیں اُنہیں اشتہارات ملتے ہیں جو ایسی کمپنیوں کے ہوتے ہیں جو معیار بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ـ اس لیے شعور قاری کا ایک بڑا طبقہ اردو میں دلچسپی رکھتے ہوئے بھی اردو کا اخبار نہیں خریدتا اور نہ پڑھنے کی زحمت کرتا اگر پڑھتا بھی تو صرف ائے دن کے حالات جاننے کے لیے، اِس لئے قارئین سے یہ بھی اُمید نہیں کی جا سکتی ہے، اخبارات اور رسائل کے معیار اور وقار کو بڑھانے میں یہ لوگ دلچسپی بھی رکھتے ہیں یا نہیں ـ اختبارات اور رسائل اپنے مقصد میں اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک عوام اور خواص کے ہاتھوں تک بڑی تعداد میں نہ پہنچیں۔ اُردو زبان کے اخبارات اور رسائل کی یہی کمزوری ہے کہ وہ دور دور تک حلقہ اثر نہیں بنا پاتے ۔ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا مسلہ یہ ہے کہ تجربہ کار باصلاحیت ایماندار اور محنت سے کام کرنے والے صحافی اردو سے انجان ہیں ـ ہماری نئی نسل کو شروع سے اُردو زبان میں دلچسپی ہی نہیں رہی تو یہ نسل اُردو صحافت کو کیا جانیں گی ۔ ایک کامیاب اُردو اخبار کے لیے ضروری ہے کہ اس میں بہتر سے بہتر اور تازہ سے تازہ خبریں اور مضامین لکھے جا سکیں، اِس کے بعد باقاعده شعبہ اشتہارات ہو جس میں مختص تجربہ کار عملہ کام کرتا ہو۔ جب یہ سب بہتر ہوگا تو اُردو کے اخبارات یقیناً معیاری اور دیدہ زیب ہوسکیں گے ، ورنہ یہی کہا جائے گا کہ اُردو صحافت آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔










