اودھمپور میںاَساتذہ کنونشن سے خطاب،سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے آراِی ٹی سکیم متعارف کرنے کے فیصلے کو سراہا
اودھمپور// وزیر برائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے اساتذہ کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایک ترقی پسند اور روشن خیال معاشرے کی تشکیل میں اَساتذہ کے اہم کردار کو اُجاگر کیا۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں نسیم جاوید چودھری، اے سی آر اُودھمپور، جوائنٹ ڈائریکٹرسکولی تعلیم اودھمپور اور رِیاسی، ڈِی ایس ڈبلیو او اُودھمپور، سی ایم اواُودھمپور، سی اِی اواُودھمپور، محکمہ تعلیم کے دیگر سینئر اَفسران اور بڑی تعداد میں اَساتذہ موجود تھے۔وزیر تعلم نے اَساتذہ کے ایک بڑے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اَساتذہ کو ترقی پسند معاشرے کی تعمیر کے حقیقی معمار قرار دیا اور کہا کہ اُن کی خدمات صرف کلاس روم اور نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’ذِمہ دار شہریوں کی تربیت اور معاشرے کے اخلاقی و فکری تابانے کو مضبوط بنانے میں اساتذہ فیصلہ کن کردار ہوتے ہیں۔‘‘ وزیر موصوفہ نے اَساتذہ پر زور دیا کہ وہ بدلتے ہوئے تعلیمی چیلنجوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کریں اورنوجوان نسل کی اُمنگوں کو پورا کرنے کے لئے جدید تدریسی طریقے اَپنائیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مسلسل پیشہ ورانہ ترقی اور اَقدار پر مبنی تعلیم وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لئے ضروری ہے۔اُنہوںنے تعلیمی شعبے میں اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی دُوراندیش قیادت میں رہبرِ تعلیم (آر اِی ٹی) سکیم متعارف کرنے کا اِنقلابی قدم اُٹھایا گیا جس نے جموں و کشمیر میں سکولی تعلیمی شعبے کی صورتِ حال بدل کر رکھ دی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ رہبر تعلیم سکیم کی بدولت دُور دراز علاقوں کے وہ طلبأ جو تعلیم کے لئے شہروں کا رُخ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، اَپنے ہی علاقوں میں تعلیم حاصل کر سکے۔اُنہوں نے کہا کہ معاشرے میں اَساتذہ کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے اور اِس بات کی نشاندہی کی کہ بڑی تعداد میں آئی اے ایس، آئی پی ایس اور جے کے اے ایس اَفسران سرکاری سکولوں کے تعلیم یافتہ ہیں جس کا سہرا اُن کے اساتذہ کو جاتا ہے۔وزیر سکینہ اِیتوننے استاد اور طالب علم کے تعلقات میں اصلاح اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی احترام، اعتماد اورافہام و تفہیم کو تمام تعلیمی اِداروں کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی اِداروں میں اُستاد اورطلبأ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کچھ مثبت اِصلاحات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے تعلیمی شعبے میں بہتری کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، تدریسی معیار کو بلند کرنے اور جموں و کشمیر کے تعلیمی اِداروں میں ہمہ جہت تعلیم کو فروغ دینے کے لئے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران حکومت نے تعلیمی شعبے کی ترقی کے لئے انتھک محنت کی ہے بالخصوص تعلیمی سیشن میں تبدیلی، سنیارٹی لسٹوں کی بروقت اپڈیٹ، ڈی پی سی کے اِنعقاد اور دیگر متعلقہ مسائل کو حل کیا گیا ہے جبکہ کچھ امور حکومت کے زیر غور ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی شعبے کی بہتری کے لئے حکومت کی جانب سے مختلف اِصلاحی اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیںجس سے جموں و کشمیر میں تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔اِس موقعہ پر مختلف اَساتذہ نے بھی اَپنے خیالات کا اِظہار کیااور حکومت بالخصوص وزیر تعلیم کی جانب سے تعلیمی شعبے میں اُٹھائے گئے اِنقلابی اقدامات کو سراہا۔ اُنہوں نے تعلیمی سیشن میں تبدیلی، سی پی ڈبلیوز کی باقاعدگی، طویل عرصے سے زیرِ اِلتوأ سکولوں میں پرنسپلوں اور دیگر اَساتذہ کی تعیناتی، سکولوں میں نصابی کتابوں کی دستیابی، سنیارٹی لسٹوں کی بروقت اپڈیٹ اور تمام سطحوں پر ڈی پی سی کے باقاعدہ اِنعقاد جیسے فیصلوں پر وزیر تعلیم کا شکریہ اَدا کیا۔اَساتذہ نے اِس موقعہ پر وزیر موصوفہ کو چند مطالبات بھی گوش گزار کئے جن میں ریٹائرمنٹ کے وقت لیو سیلری کی فراہمی، پرانی پنشن سکیم (او پی ایس) کی بحالی، مردم شماری، سروے اور دیگر محکموں میں غیر تدریسی ذِمہ داریوں سے اَساتذہ کو واپس بلانااور مڈ ڈے میل سکیم کے واجبات کی بروقت ادائیگی شامل ہیں۔ وزیرتعلیم سکینہ اِیتو نے محکمہ سماجی بہبود کی مستفید خواتین میں سلائی مشینیں بھی تقسیم کیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے قومی سطح کے مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں نمایاں اور شاندار کارکردگی دِکھانے والے سکولی بچوں میں سائیکلیں بھی تقسیم کیں۔










