سری نگر//کوروناکی نئی قسم ’اومیکرون‘ ہرگزرتے دن کیساتھ بھارت میں بھی تیزی کیساتھ پھیل رہاہے ،کیونکہ فی الوقت ملک بھرکی21ریاستوں اورمرکزی زیرانتظام علاقوں میں اومیکرون کے کیس درج ہوئے ہیں ۔جے کے این ایس کودستیاب تفصیلات کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 126 نئے کیس سامنے آنے کے بعد بھارت میں اومیکرون کے کل کیسوںکی مجموعی تعداد 781تک پہنچ گئی ہے ۔ نئی قسم کے سب سے زیادہ کیس دہلی میں رپورٹ ہوئے ہیں، جن کی تعداد238 ہے، اس کے بعد مہاراشٹرا 167 ہے۔مرکزی وزارت صحت وخاندانی بہبودنے بدھ کو نئی دہلی میں جاری کردہ اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ریاستوں اورمرکزی زیرانتظام علاقوں میں اومیکرون کے کیسوںکی تعداد 781ہوگئی ہے ۔ مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی21 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میںگزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 126 نئے کیس سامنے آنے کے بعدملک میں781اومیکرون کیسوںکا پتہ چلا ہے جس میںدہلی238مثبت کیسوںکے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ مہاراشٹرہ میں 167کیس ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ کیرالہ میں65، تلنگانہ میں 62،گجرات میں73، راجستھان میں 46 اور تامل ناڈئو میں 34،کرناٹک میں بھی 34اومیکرون کیس درج ہوئے ہیں۔مزیدتفصیلات کے مطابق ہریانہ میں12،مغربی بنگال میں11،مدھیہ پردیش میں9،اوڑیسہ میں 8 ،آندھرا پردیش میں 6 ،اُتراکھنڈ میں 4 ،چندی گڑھ میں 3 ،جموں وکشمیرمیں3 ، اُترپردیش میں2 ،گوا ،ہماچل پردیش،لداخ ، منی پور اور پانڈی چری میں ایک ایک اومیکرون کیس درج ہواہے ۔دریں اثناء ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون سے متعلق مجموعی خطرہ’بہت زیادہ‘رہتا ہے۔ کووڈ19کے سلسلے میں ایک ہفتہ وارتفصیلات دیتے ہوئے ، عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ مستقل شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کو2سے3 دن کے دوگنا وقت کے ساتھ’ڈیلٹا ویرینٹ پر ترقی کا فائدہ‘حاصل ہے۔










