اننت ناگ میں بیس برس قبل شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر پر کام شروع کیا گیا،ابھی تک مکمل نہیں ہوا

شاپنگ کمپلیکس منشیات کے عادی افراد اور سماجی جرائم میں ملوث افراد کیلئے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل

سرینگر///جنوبی کشمیر ضلع اننت ناگ قصبہ کے وسط میں 20 برس قبل شاپنگ کمپلیکس پر شروع کئے گئے تعمیراتی کام کو آج تک پایہ تکمیل نہیں پہنچایا جا سکا جس کی وجہ سے اسے منشیات کے عادی افراد نے اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق اس منصوبے پر سنہ 2004 میں اربن لوکل باڈیز نے اپنے بنیادی اختیار کو لیکر اننت ناگ قصبہ میں ایس آر ٹی سی شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا تھا۔ تاہم آج بیس برس گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ نامکمل ہے۔25 جولائی 2015 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے اننت ناگ کے دورے کے دوران ایس آر ٹی سی اننت ناگ میں شاپنگ مال جو زیر تعمیر تھا کو منظوری دی تھی جو باضابطہ تکنیکی جانچ کے بعد دو ہزار سولہ مالیاتی اختیارات کے سیکشن 4.9 (1) کے تحت حاصل کردہ اختیارات کی ایکسائز میں اور محکمہ خزانہ/ منصوبہ بندی اور ترقی کی منظوری کے ساتھ زیر تخمینہ لاگت انیس کروڑ تیس لاکھ روپے شروع کیا گیا تھا ۔ذرائع کے مطابق سنہ 2009 میں اس منصوبے پر نا معلوم وجوہات کی بنا پر روک لگا دی گئی تھی جس کی وجہ سے تعمیراتی کام طویل عرصے تک بند رہا۔ تاہم سنہ 2015 میں مذکورہ منصوبہ پر کام دوبارہ شروع کیا گیا، اس وقت پروجیکٹ کی لاگت 8.65 کروڑ روپے سے بڑھا کر 9.28 کروڑ روپے کر دی گئی لیکن پھر بھی گزشتہ تقریباً 3 برسوں سے شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر کا کام بند پڑا ہوا ہے۔اور اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ اْس وقت سو سے زائد تاجروں سے دکانیں اور دفاتر کے الاٹمنٹ کے لیے پیشگی ضمانت مبلغ پچاس پچاس ہزار روپے فیس بھی وصول کی گئی تھی۔ مذکورہ شاپنگ کمپلیکس سے متصل اسپورٹس اسٹیڈیم موجود ہے۔ ایک جانب نوجوان مختلف کھیل کود کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں تو دوسری جانب اس شاپنگ کمپلیکس میں اب منشیات کے عادی افراد کا قبضہ ہے۔وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق مقامی لوگوں اور تاجروں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاپنگ کمپلیکس کی زیر تعمیر عمارت تجارتی مرکز کے بجائے منشیات کا مرکز بن گئی ہے۔ محکمہ خاص کر تعمیراتی ایجنسی اس کی تکمیل کے لیے غیر سنجیدہ نظر آرہی ہیں. یہی وجہ ہے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی شاپنگ کمپلیکس کا تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ لوگوں نے متعلقہ حکام سے اس منصوبے کو جلد سے جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔یاد رہے کہ سنہ 2020 میں اربن لوکل باڈیز کی انجینئرنگ ونگ منسوخ کر دی گئی اور یہ پروجیکٹ آر اینڈ بی محکمہ کے سپرد کیا گیاتھا ، جس کے بعد اس کے تعمیراتی کام میں رکاوٹیں حائل ہوئیں۔ جبکہ اس محکمہ کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس پروجیکٹ کو مکمل نہ کرنے میں سب سے زیادہ ذمہ دار بھی یہی محکمہ ہے جنہیں کئی ضلع ترقیاتی کمشنرز بشمول موجودہ ضلع ترقیاتی کمشنر بار بار کام مکمل کرنے کی ھدایت دیتے رہیے لیکن یہ محکمہ ایسا کرنے میں ناکام رہا۔مقامی لوگوں اور تاجروں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاپنگ کمپلیکس کی زیر تعمیر عمارت تجارتی مرکز کے بجائے منشیات کا مرکز بن گیا ہیاور ایل جی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ سے معاملے کی نوعیت کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر اسے مکمل کرنے کی اپیل کی۔