اننت ناگ//جنوبی ضلع اننت ناگ میں اینٹ بھٹ مالکان کی منمانیاں اپنے عروج پر ،مہنگے داموں اینٹ فروخت کر کے لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا عمل جاری ہے۔ جے کے این ایس نمائندے جاوید گل کے مطابق اینٹ بھٹ مالکان پہلے اینٹ دستیاب نہ ہونے کا بہانہ بناکر زخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور اینٹ کی قلت پیدہ کرنے کے بعد ناجائز طریقے سے30 سے35 ہزار روپیہ فی گاڈی کے حساب سے اینٹ فروخت کرتے ہیں ، اگرچہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے چند مہینہ قبل ایک نرخنامہ اجراء کیا گیا، جس کے مطابق 21ہزار روپیہ فی گاڈی فروخت کرنے کا حکم صادر کیا گیا اور زمینی سطح پر حکمنامے کو عملانے کی خاطر آفسران کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی ، جو چند روز تک میدان میں سرگرم ِعمل بھی رہی اور کاروائی کے دوران سرکاری حکمنامہ کی خلاف ورزی کی پاداش میں کچھ اینٹ بٹھوں کو سربیمہر بھی کیا گیا ، جبکہ انتظامہ کی اس کاروائی سے قافی حد تک منافع خور بھٹ مالکان کے حوالے پست ہوئے ، مگر کاروائی میں نرمی دیکھتے ہی بھٹ مالکان نے پھر سے غریب عوام کا خون چوسنے کا عمل شروع کیا۔ قابل زکر بات ہے کہ خلاف ورزی ٹیم میں شامل کچھ آفسران کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ہی غریب عوام کی امیدوں پر پانی پھر گیا، جبکہ ابھی تک متبادل آفسران کا انتخاب بھی عمل میں نہیں لایا گیا۔عوامی حلقوں نے ضلع انتظامہ کی اس گفلت شعاری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر کب تک غریب عوام کو منافع خوروں کے رحم وکرم پر رہنا ہوگا، اور کب اینٹ بھٹ مالکان پر کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کب ضلع انتظامیہ نیند سے بیدار ہو کر کاروائی عمل میں لائے گی۔۔










