انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔سما نیوز کے پروگرام ’زور کا جوڑ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انضمام الحق نے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جب الزامات لگے تھے تو بورڈ سے میری بات ہوئی تھی اور ان سے کہا تھا کہ اگر کوئی شک ہے تو اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے انہیں بتایا کہ ہم نے 5 رکنی کمیٹی بنا دی ہے، کمیٹی بنی ہے تو اس دن تک میں مستعفی ہوجاتا ہوں اور کمیٹی اپنی تحقیقات مکمل کرے اور چیزیں جیسے مکمل ہوجاتی ہیں تو اس کے بعد میں پی سی بی کے ساتھ بیٹھ جاؤں گا۔انضمام الحق نے کہا کہ ہم کرکٹر ہیں، مجھے بہتر لگا کہ اگر میرے اوپر کسی چیز کی انکوائری ہے تو میرا عہدہ ایسا ہے کہ مجھے مستعفی ہونا چاہیے اور انکوائری آرام سے کرنے دینی چاہیے اور جو بھی نتیجہ آئے پھر اس کو دیکھ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹر کی حیثیت سے میرا کردار جج کا ہے کیونکہ سارے لڑکوں کے فیصلے کرتا ہوں، اس لیے اگر میرے اوپر سوال اٹھے گا تو بہتر ہے کہ میں ایک طرف ہوجاؤں اور پی سی بی اپنی انکوائری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد میں ہر چیز کے لیے دستیاب ہوں، اس حوالے سے پی سی بی کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہوں لیکن اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ مجھے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بیان میں کہا کہ ’بورڈ نے ٹیم کے انتخاب کے عمل سے متعلق میڈیا میں رپورٹ ہونے والے مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے الزامات کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات پی سی بی کی انتظامیہ کو جلد پیش کرے گی‘۔
پی سی بی نے مزید کہا کہ انضمام الحق نے قومی مینز سلیکشن کمیٹی اور جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ سابق کپتان انضمام الحق کو 7 اگست 2023 کو قومی سلیکشن کمیٹی کا چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا تھا اور رواں ماہ کے شروع میں انہیں جونیئر سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا تھا۔پی سی بی نے کہا کہ انضمام الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں تاکہ میڈیا پر لگائے گئے مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی صاف اور شفاف تحقیقات ہو سکیں، اگر کمیٹی مجھے قصوروار نہیں پاتی ہے تو میں چیف سلیکٹر کے عہدے پر اپنی ذمہ داریاں دوبارہ شروع کروں گا۔ورڈ نے بیان میں کہا کہ پی سی بی تحقیقات کے دوران انضمام الحق کے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور تسلیم کرتا ہے۔انضمام الحق نے انٹرویو کے دوران الزامات کے حوالے سے سوال پر کہا کہ اس سے تکلیف ہوتی ہے، لوگ بغیر تحقیق کے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، جس نے بھی بات کی ہے، اس کو ثبوت بھی دینا چاہیے اور اس طرح کی چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔
قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ میں نے پی سی بی سے بھی کہا تھا اس کی تحقیق کریں، کیونکہ سایا کمپنی یا جو بھی ہے، اس کی تحقیقات کریں اور صحیح صورت حال سامنے آجانی چاہیے اور لوگوں کے سامنے بھی آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں انسان ہوں اور انسان اس طرح کی چیزوں پر دلبرداشتہ ہوتا ہے، کسی پر بھی ایسے الزامات لگیں تو اس کو تکلیف ہوتی ہے اور میرا 30 سال کا کیریئر ہے اور اس کے بعد 15 سال سے لوگ مجھے جانتے ہیں، میں اس طرح کا آدمی نہیں ہوں جس کو لوگ نہیں جانتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پھر اگر ایسے الزامات لگیں تو دکھ ہوتا ہے۔
سایا کارپویشن سے میرا تعلق نہیں، طلحہ میرا ایجنٹ ہے‘
تنازع سے متعلق کمپنی سے معاہدے پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں واضح طور پر بتا رہا ہوں سایا کارپوریشن سے میرا زندگی میں کبھی تعلق نہیں رہا، سایا کارپوریشن سے نہ تو پہلے دستخط ہوئے ہیں اور نہ بعد میں ہوئے ہیں اور جو بھی یہ چیز کہہ رہا ہے وہ غلط کہہ رہا ہے۔
انضمام الحق نے بتایا کہ یہ جو کمپنیاں اور ایجنٹ ہوتے ہیں ان کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ان کو تجویز کرتی ہے اور ان کا پورا ڈیٹا پی سی بی کے پاس ہوتا ہے، اگر کوئی ایک ایسی کمپنی ہے جس کے ساتھ پاکستان کے اتنے سارے کھلاڑی منسلک ہیں تو ایسا نہیں ہوسکتا ہے پاکستان کا ڈیٹا ان کے پاس نہ ہو، ڈیٹا ہونا بھی چاہیے اور ہے بھی، ساری چیزیں واضح ہونی چاہیے۔










