انسداد بدعنوانی عدالت پلوامہ اور اننت ناگ کی جانب سے خصوصی فیصلے

انسداد بدعنوانی عدالت پلوامہ اور اننت ناگ کی جانب سے خصوصی فیصلے

رشوت خوری میں گرفتار گرداوار اور جونیئر اسسٹنٹ پر فر د جرم عائد ،دونوں پر قید کی سزا کے ساتھ ساتھ نقدی جرمانہ بھی عائد

سرینگر/ سی این آئی // انسداد بدعنوانی عدالت پلوامہ اور اننت ناگ نے اُس وقت کے گرداور سرکل کیگام شوپیان اور بی ڈی او آفس لارکی پورہ، اننت ناگ میں جونیئر اسسٹنٹ کو الگ الگ ٹریپ کیسوں میں مجرم قرار دیا۔سی این آئی کے مطابق بدعنوانی سے نمٹنے کے عزم کو تقویت دینے والے ایک اہم فیصلے میں سپیشل جج انسداد بدعنوانی عدالت پلوامہ ڈاکٹر نور محمد میر نے غلام حسن کمار ولد غلام رسول کمار ساکنہ تاری گام دیو بگ کولگام کو ایک کیس زیر نمبر 22/2008پولیس اسٹیشن ویجی لنس کشمیر کے تحت مجرم قرار دیا۔ بیان کے مطابق ملزم، جو اُس وقت گرداوار کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا، کو جموں کشمیر پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5(2) کے ساتھ سال 2006 اور دفعہ 161 آر پی سی، 18 کنال اور 18 مرلہ زمین کی حد بندی کے بدلے میں شکایت کنندہ سے دو ہزار روپے رشوت طلب کرنے اور قبول کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ 16 جون 2008 کو درج کرائی گئی شکایت کے بعد، ویجی لئنس آرگنائزیشن کشمیر (اب اینٹی کرپشن بیورو) نے کامیابی سے ایک جال بچھا دیا تھا، جس کے دوران ملزم کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔مکمل چھان بین کے بعد ترجمان نے کہا کہ 4 دسمبر 2008 کو چارج شیٹ دائر کی گئی اور کیس عدالتی فیصلہ کے لیے آگے بڑھا۔ 18اگست 2025کو معزز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے، ملزم کو جے اینڈ کے پی سی ایکٹ، کے تحت تین سال اور چھ ماہ کیلئے سادہ قید کے ساتھ ساتھ 20ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی۔ 161 آر پی سی کے تحت ملزم کو ایک سال کی سادہ قید اور 10,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔یہ سزا انسداد بدعنوانی بیورو کی عوامی خدمت میں دیانتداری اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کی جاری کوششوں میں ایک اور سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے۔دریں اثنا، خصوصی جج انسداد بدعنوانی عدالت اننت ناگ، مسرت روحی نے بھی طویل عرصے سے زیر التوا بدعنوانی کے مقدمے میں ایک اہم فیصلہ سنایا، جس میں حبیب اللہ کمار کو مجرم قرار دیا، جو اس وقت بلاک ڈیولپمنٹ آفس، لارکی پورہ میں جونیئر اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ایف آئی آر نمبر 25/2009کے تحت درج ہونے والے کیس کی تفتیش اس وقت کی ویجیلنس آرگنائزیشن کشمیر (اب اینٹی کرپشن بیورو) نے جموں کشمیر پریوینشن آف کرپشن ایکٹ، کے تحت کی تھی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مقدمہ ایک تحریری شکایت سے شروع ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ نے بتایا کہ اسے، بی ڈی او آفس لارکی پورہ میں تعینات دیگر پانچ مددگاروں کے ساتھ، یکم نومبر 2008 سے ان سیٹو پروموشن دی گئی تھی۔ جب اس نے ملزم سے، جو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے انچارج تھا، بقایا جات کے بلوں کی تیاری کے لیے رابطہ کیا، ملزم نے اسی کارروائی کے لیے 1800 روپے رشوت طلب کی ۔ شکایت موصول ہونے پر ترجمان نے کہا کہ ویجیلنس آرگنائزیشن کی جانب سے ایک جال بچھایا گیا تھا، جس کے دوران ملزم شکایت کنندہ سے رشوت کی رقم کا مطالبہ اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد، عدالتی فیصلہ کے لیے 17 اپریل 2010 کو عدالت کے سامنے ایک چارج شیٹ دائر کی گئی۔ مقدمے کی سماعت 21 اگست 2025 کو ملزم کی سزا کے ساتھ ختم ہوئی۔عدالت نے ملزم کو 2 سال قید اور 21 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمانے کی ادائیگی میں کوتاہی کی صورت میں ملزم مزید چھ ماہ قید کی سزا بھگتیں گے۔یہ سزا انسداد بدعنوانی بیورو کے بدعنوانی کے خلاف جنگ اور عوامی انتظامیہ میں دیانتداری کو فروغ دینے کے لیے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔