اب تک 68 لاکھ روپے خرچ، بیماری کے تدارک کیلئے متعدد مہمات جاری
سرینگر//یواین ایس / مرکزی حکومت نے قومی انسدادِ جذام پروگرام کے تحت مالی سال 2024–25 کے لیے جموں و کشمیر کو 113.59 لاکھ روپے مختص کیے ہیں جن میں سے اب تک 68.09 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس بات کی اطلاع مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں دی۔وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی وزیر مملکت انوپریہ پٹیل نے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا کے ایک غیر ستارہ سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ پروگرام قومی صحت مشن کے تحت مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے طور پر نافذ کیا جاتا ہے اور اس کے لیے فنڈز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو پروگرام امپلیمینٹیشن پلان کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کو مالی سال 2022–23 میں 74.89 لاکھ روپے فراہم کیے گئے تھے جن میں سے 24.98 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اسی طرح 2023–24 میں 80.65 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی جن میں سے 22.35 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ مالی سال 2024–25 میں فنڈز بڑھا کر 113.59 لاکھ روپے کر دیے گئے ہیں جس سے اس پروگرام کے لیے مالی معاونت میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔حکومت کے مطابق جذام ایک دائمی بیماری ہے جس کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ پانچ سے بیس سال تک ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ نئے مریضوں کی نشاندہی جاری رہتی ہے۔ بھارت میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آتے ہیں جو عالمی سطح پر اس بیماری کے بوجھ کا بڑا حصہ ہیں۔بیماری پر قابو پانے کے لیے وزارت صحت نے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں جن میں لیپروسی کیس ڈیٹیکشن مہمات، زیادہ متاثرہ اضلاع میں گھر گھر سروے اور نئے مریضوں کے آس پاس اضافی کیسز کی شناخت کے لیے خصوصی مہمات شامل ہیں۔مرکزی حکومت نے عوامی بیداری بڑھانے اور معاشرتی بدنامی کو کم کرنے کے لیے 30 جنوری 2017 کو اینٹی لیپروسی ڈے کے موقع پر ‘‘اسپرش لیپروسی بیداری مہم’’ بھی شروع کی تھی۔وزارت کے مطابق جذام سے متعلق خدمات کو عام صحت کے نظام کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے اور یہ سہولیات آیوشمان آروگیہ مندروں، پرائمری ہیلتھ سینٹروں، کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں اور ضلع اسپتالوں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔وزارت نے مزید بتایا کہ قومی انسدادِ جذام پروگرام کے تحت ریاستی اور ضلعی سطح پر مریضوں کے اعداد و شمار ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے آن لائن پورٹل پر دستیاب ہیں جس کی بنیاد پر بیماری کے پھیلاؤ کے مطابق منصوبہ بندی اور ہدفی اقدامات کیے جاتے ہیں۔










