بیشتر مہلک بیماریاں پھوٹ پڑناملاوٹ کاہی نتیجہ ،حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدام اٹھانے میں لیت ولعل کیوں ؟
سرینگر / / اچھی صحت کیلئے اشیائے خورد ونوش کا اپنی اصلیت میں ہونا لازمی ہے۔ماضی میں لوگوں کے پاس آمدنی کے ذرایعے محدود تھے اور آج جیسی راحت رسانی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس زمانے کے لوگوں کی صحت کافی بہتر اورتندرست ہوتی تھی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ جوکچھ کھاتے پیتے تھے وہ اپنی اصلیت میں ہوتی تھیں ان میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوا کرتی تھی ۔لیکن اب ایسی کوئی چیر نہیں جس میں ملاوٹ نہیں ہوتی ہے اور ملاوٹ زہر یلی شئے ہوتی ہے جو انسان کی صحت خراب نہیں بلکہ قبر پر لے جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی حساس افراد نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بازاروں میں جاکر پریشان ہوجاتے ہیں ۔ان میں سے نذیر احمد نامی ایک شخص نے بتایا کہ اس نے سرینگر کے مائسمہ بازار سے دو دن قبل دودھ( شیر خام ) ایک کلو لایا لیکن جب اس کو گھر میں اُبال لیا تو اس دودہ میں ایک فیصد بھی اصلیت نہیں تھی بلکہ وہ بالکل سبتی پوڈر تھا ۔انہوں نے کہا کہ جب کئی دوستوں سے یہ بات شیئر کی تو دوستوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ دودھ فروش واشنگ مشین کے ذریعے پوڈر حل کرکے اسی دودھ کو بازاروں میں بھیج دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اشیائے خورد ونوش کے پیک ڈبوں پر لیبل اصلی کا چسپاں ہوتا ہے، لیکن اندر اصلیت کے دس فیصدی بھی نہیں ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ملاوٹ اوردھوکہ بازی کا نتیجہ یہ ہے کہ مضر صحت اشیاء کھانے پینے کی چیزوں میں مل کر انسان کے جسم میں پہنچ رہی ہیں اور صحت کو گلارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جو دائمی امراض جیسے ڈپریشن، بلڈپریشر ،ذیابطیس یعنی شوگر،تھائراڈ،کولسٹرال پنپناں ملاوٹ کا ہی نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور اشیائے خوردنی ،سبزیوں اور میوہ جات جو انسان کی ضرورت بھی اور صحت مندی کیلئے لازمی بھی ہیں اور ان کے بغیر انسان کا جینا ،کھانا پینا گویا ہر چیز محال ہے لیکن ملاوٹ سے یہ چیزیں انسان کیلئے جان لیوا ہی ثابت ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ اب ٹسٹ کرنے کے بعد liver /Kidney کی بیماریاں تشخیص کی جاتی ہیں اورٹرانسپلانٹ کرنے تک کی نوبت آں پہنچتی ہے جس پر لاکھوں روپے کا کرچہ آتا ہے ۔یہ سبھی اس ملاوٹ کاہی نتیجہ ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردنی کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدام اٹھائے جائیں اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انسانوں کی قیمتی زندگیاں محفوظ رہ سکیں اور صحت مند زندگی گذار سکیں گے ۔










