sahoo

اندازِ سخن

حسن ساہو،ہمدانیہ کالونی بمنہ

مندرجہ بالا عنوان کی بابت کچھقمطر از کرنے سے قبل موزوںجانتا ہوں کہ تمہیدی طور ایک منظوم لطیفہ قارئین کرام کینذر کروں۔ہاں تو پاکستان کے نامور طنز یہ نگار شاعر سید ضمیر جعفرفر ماتے ہیں۔
اُس نے کہا آداب کرتا ہوں کہوکیا حال ہے؟
اِس نے کہا تھیلے میں دورو مال اور اک تھال ہے؟
اُس نے کہا انسان میں کچھ ذوقہمدردی بھی ہے؟
اِس نے کہا ہم کیا کریں کھانسیبھیہے سردی بھی ہے؟
اُس نے کہا منجھلے چچاکیا اب بھی ہیں ملتان ہیں!
اِس نے ک ہا کچھ درد سا رہتا ہے بائیں کان میں!
اُس نے کہا بیمار ہے بیگم گذشتہ رات سے!
اِس نے کہا اچھی کہی دل خوش ہوا اس بات سے!
قارئین کرام نے اندازہ لگا ہی لیا ہوگا کی منظوم لطیفہ دراصل دوبہروں کی ملاقات اور اُن کے درمیان ہوئی گفتگو کا اظہار ہے۔ آپ نے دیکھا کہ پہلا شخص کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ اور ہی جواب دیتا ہے ۔ان کی باتوں میں کسی طرح کا ربط یا تال میل نہیں ہے ۔خیریہ تو تھادو بہروں کی گفتگوکا جائزہ ۔اس کے لئے ہم کسی ایک کو الزام نہیں دے سکتے کیونکہ دونوں افراد مقصد سخن سے ناواقف ہوتے ہیں یعنی درست جواب دینے سے دونوں ہی قاصر ومعذورہوتے ہیں۔
لیکن کیا آپ نے کبھی اپنے اردگرد ہونے والی افریقین کے وقت گفتگو اور انداز سخن کا جائزہ لیا ہے ؟اس کے ساتھ ساتھ کبھی ہم نے اپنی کہی باتوں کا محاسبہ کیا ہے کہ آپ کا اپنا یا آپ کے مقابل کا انداز سخن کیسا ہوتاہے یعنی کس قدر مقصد ی ہوتا ہے اور کس قدر مختصر ہوتے ہوئے بھی جامع اور پر اثر ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سارے افراد سوچا بھی نہیں کرتے کہ اپنی غیر ضروری باتوں اور دوسروں کی غیر اہم یا موضوع سے ہٹ کر باتوں کا جائزہ لینا چاہئے۔
یقینا ًوہ لوگ جو تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ معاشرے کے رکھ رکھاؤ اورآداب ِسخن سے واقف ہوتے ہیں اکثر بہت ہی مختصر وقت میں اپنی بات کو کہتے ہیں اور مخاطب اشخاص کو متاثر کرتے ہیں ۔اپنا مدعابیان کرنے میں وہی لوگ کامیاب بھی رہتے ہیں ۔اُن کی اس روش کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں بھی کامیاب رہتے ہیں البتہ اس کے برعکس جو بڑھا چڑھا کر لمبی لمبی باتے کرنے کے عادی ہوتے ہیں دراصل وہ اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتے ہیں۔
لے دے کے یاد رکھنے کے بات یہ ہے کہ لفظ بے بنیاد اور مدعاو مقصد سے ہٹ کر باتیں بھی کبھی کسی کو متاثر نہیں کرتیں۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ زیادہ بے مقصدباتیں کرنے والا باتونی، احمق اور آج کی زبان میں بور کہلاتا ہے۔جس کی نہ تو عزت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی باتوں کا کوئی خاص اثر ہوتا ہے ۔بلکہ میں بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ فضول باتوں کی وجہ سے ایسے لوگ عموماً ہر معاملہ میں ناکام ہی نظر ااتے ہیں اور وابستہ افراد بھی اُس سے بیزاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
یہی معاملہ درس و تدریس کے مختلف زینے طے کرنے میں بھی درپیش رہتا ہے ۔اگر طلباء و طالبات امتحانات میں پوچھے گئے سوالات کے درست جوابات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اُن کو نتیجہ بھی ناکامی کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔
چنانچہ ثابت ہوا کہ اندازِ گفتگو یا اپنا مدعا بیان کرنے کا بھی ایک طریقہ کار ہوا کرتا ہے اور یہ طریقہ یافن درست علم ،ادب ،تہذیب اور جائزرہنمائی سے ہی اجاگر ہوا کرتا ہے ۔غرض یہ کہ صحیح شعور یا صلاحیت کے بل پر ہی ہم اپنی پر اثر اور اپنی تلی باتوں سے دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں ۔بصورت دیگر ہماری بے مقصد باتوں کے باعث معاملہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بدلے میں سننا پڑے ۔
تم ہیکہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
دانائوںنے کیا خوب کہا ہے کہ ایک بے وقوف اور کوڑھ مغز فرد جب تک محفل اور مجلس میں چپ رہے گا وہ عقلمند ہی تصور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ محاورہ بھی زبان ِزد عام ہے۔
’’ پہلے بات کو تولو پھر بولو ‘‘
اتنی باتیں کرنے کے بعد اب ہمیں طے کرنا ہے کہ ہمیں اپنا شمار کن حضرات میں کرنا چاہیے ۔لفاظحضرات میں یا دانشوروں میں۔