یونیفارم سول کوڈ،بنگال کا بیٹا وزیر اعلیٰ اوررام راجیہ کا وعدہ
سرینگر// یو این ایس// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے منشور ‘‘سنکلپ پتر’’ کے اجرا کے موقع پر ایک جارحانہ سیاسی حکمت عملی پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر پارٹی اقتدار میں آئی تو ریاست میں چھ ماہ کے اندر یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جائے گا، بنگال کا بیٹا وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا اور ‘‘رام راجیہ’’ قائم کیا جائے گا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگال میں ہر شہری کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیفارم سول کوڈ کا تصور بی جے پی کا نہیں بلکہ دستور ساز اسمبلی کی سفارشات کا حصہ رہا ہے، جسے مبینہ طور پر خوشامدی سیاست کے باعث نافذ نہیں کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون ہونا اکثریت پسندی ہے یا انصاف؟ ان کے مطابق یو سی سی امتیازی رویوں کا خاتمہ کرے گا اور سب کو برابر حقوق فراہم کرے گا۔وزیر اعلیٰ کے چہرے سے متعلق جاری بحث پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا وزیر اعلیٰ بنگال سے تعلق رکھنے والا، بنگالی زبان جاننے والا اور باصلاحیت شخص ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ بی جے پی دہلی سے بنگال کو چلانا چاہتی ہے۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے دراندازی کے مسئلے کو اجاگر کیا اور کہا کہ غیر ملکی دراندازوں کو نکالا جائے گا جبکہ مہاجرین کو شہریت دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں جعلی اندراجات موجود ہیں جن کی تفصیل بی جے پی حکومت بننے کے بعد پیش کی جائے گی۔رام راجیہ’کے تصور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دراصل بہتر حکمرانی کی علامت ہے، جس کا ذکر مہاتما گاندھی نے بھی آزادی کی تحریک کے دوران کیا تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ممتا بنرجی اس تصور کو بھی قبول نہیں کرتیں تو جلد ہی اقتدار میں تبدیلی آنے والی ہے۔بی جے پی پر بنگالی طرزِ زندگی میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مچھلی یا انڈوں پر پابندی سے متعلق باتیں محض افواہیں ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بی جے پی حکومت سابقہ حکومت کی عوامی فلاحی اسکیموں کو بند نہیں کرے گی، البتہ ان میں ہونے والی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو بائیں بازو اور ترنمول کانگریس کی پالیسیوں نے کمزور کیا ہے، اس لیے موجودہ اقدامات عوام کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہیں۔امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ اس بار بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر ووٹ دیں۔ انہوں نے انتخابی عمل کو پرامن بنانے کے لیے الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے کردار پر بھی اطمینان ظاہر کیا۔انہوں نے آخر میں وعدہ کیا کہ کْرمالی اور راجبنشی زبانوں کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ان زبانوں کو بھی سرکاری سطح پر شناخت حاصل ہو سکے۔










